اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 194

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۹۴ الحق مباحثہ دہلی يشابهه في اكثر خواصه وصفاته جائز حسن تفسیر کبیر صفحہ ۶۸۹ جب آپ حیات مسیح کو ثابت کر دکھا ئیں گے تو پھر ان کا نزول بھی مانا جائے گا ورنہ بخاری میں وہ حدیثیں بھی ہیں جن میں ابن مریم کا ذکر کر کے اس سے مراد اس کا کوئی مثیل لیا گیا ہے ۔ قولہ آپ بخاری کی وہ حدیث مرفوع متصل بیان فرمائیے جس سے مسیح ابن مریم کی وفات ثابت ہوتی ہے۔ اقول میں تو وہ حدیث ازالہ اوہام میں لکھ چکا اور آخری پرچہ میں تنزلا ثبوت وفات کے وقت وہ حدیث بھی لکھوں گا ابھی تو دیکھ رہا ہوں کہ آپ مسیح کی حیات کے بارے میں کون سی آیت قطعية الدلالت پیش کرتے ہیں افسوس کہ اب تک آپ کچھ پیش نہ کر سکے۔ پر چه نمبر (۳) فقط مرز اغلام احمد مولوی محمد بشیر صاحب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حامدًا مصليا مسلما رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ ۔ قوله ۔ میں کہتا ہوں کہ اس بات کو ادنی استعداد کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ بار ثبوت کسی امر متنازع فیہ کی نسبت اس فریق پر ہوا کرتا ہے کہ جو ایک امر کا کسی طور سے ایک مقام میں اقرار کر کے پھر کسی دوسری صورت اور دوسرے مقام میں اسی امر قبول کردہ کا انکار کر دیتا ہے۔ اقول ۔ یہاں کلام ہے بچند وجوہ اول یہ کہ آپ قبل ادعاء مسیحیت براہین احمدیہ میں اقرار حیات مسیح کا کر چکے ہیں اور اب آپ حیات کا انکار کرتے ہیں تو موافق اپنی تعریف کے آپ مدعی ٹھہرے دوم خاکسار آپ سے ایک سوال کرتا ہے ایمانا اس کا جواب دیجئے وہ یہ ہے کہ آپ کا یہ خیال که مسیح ما کہ مسیح علیہ السلام وفات پاچکی به وفات پا چکے بعد آپ کے اس الہام کے پیدا ہوا ہے کہ مسیح فوت ہو گیا یا قبل اسکے اگر بعد پیدا ہوا ہے تو گویا یہ کہنا ہوا کہ الہام سے پہلے میرا اس خیال سے کچھ واسطہ نہ تھا اور یہ میرا دی دعوی نیا ہے جو وقت الہام کے پیدا ہوا سو اس وجہ سے آپ مدعی ہوئے اور ثبوت آپ کے ذمہ ہوا کہ آپ بعد اس اقرار کے کہ الہام سے پہلے مجھ کو اس خیال سے کچھ واسطہ نہ تھا پھر مخالف اپنے اس پہلے بیان آل عمران : 9