اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 193

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۹۳ الحق مباحثہ دہلی کیونکر منکر ہوتے ہیں یہی میرا بیان باقی آیات پیش کردہ میری کے متعلق ہے۔ علیحدہ لکھنے کی حاجت نہیں پبلک خود فیصلہ کرلے گی اور یا درکھنا چاہئے یہ ترجمے کوئی توقیفی نہیں ہیں یا آپ کے نون ثقبیلے ہرگز آپ کو وہ فائدہ نہیں پہنچا سکتے جس کی آپ کو خواہش ہے۔ قولہ حضرت عیسی کے نزول کے بعد اور ان کی موت سے پہلے ایک زمانہ ایسا ضرور ہو گا کہ اس وقت اہل کتاب سب مسلمان ہو جائیں گے۔ اقول حضرت آپ کیوں تکلفات رکیکہ کر رہے ہیں آپ کے ان تکلفات کو کون تسلیم کرے گا قرآن کریم اس بات کا گواہ ہے کہ سلسلہ کفر کا بلا فصل قیامت کے دن تک قائم رہے گا اور یہ کبھی نہیں ہوگا کہ سب لوگ ایک ہی مذہب پر ہو جائیں اور اختلاف کفر اور ایمان اور بدعت اور توحید کا درمیان سے اُٹھ جائے چنانچہ اس اختلاف کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ضروری الوجود انسانوں کی فطرت کیلئے قرار دیتا ہے اور کفر کا تخم قیامت تک قائم رہنے کیلئے یہ آیات صريحة الدلالت ہیں جو پہلے پرچہ میں لکھ چکا ہوں یعنے وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ اور آیت فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ کے اب دیکھئے کہ ان آیات سے ہی آپ کا دعویٰ قطعية الدلالت ہونا آيت ليؤمنن بہ کا کس قدر باطل ثابت ہوتا ہے ہر یک طرف سے آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ کی آپ پر زد ہے پھر بھی آپ اس خیال کو نہیں چھوڑتے۔ آپ نے جب دیکھا کہ مسیح کے دم سے بہت لوگ کفر پر مریں گے تو آپ پہلے دعوے سے کھسک گئے لیکن آیات موصوفہ بالا سے آپ کسی طرح پیچھا چھڑا نہیں سکتے۔ آپ نے جو اس بارے میں جواب دیا۔ اب دیا ہے خود منصف لوگ دیکھیں لوگ دیکھیں گے حاجت اعادہ کی نہیں۔ اعادہ کی نہیں۔ قوله آ له آپ پر واجب ہے کہ آپ ثابت کریں کہ حلیم کے لفظ سے جوان مضبوط کیونکر سمجھا جاتا ہے۔ اقول حضرت حلیم وہ ہے جو یبلغ الحلم کا مصداق ہو اور جو حلم کے زمانہ تک پہنچے وہ جوان مضبوط ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ خورد سال کے کچے اعضا شدت اور صلابت کے ساتھ بدل جاتے ہیں قاموس بھی ملاحظہ ہو اور کشاف وغیرہ بھی اور بالغ عاقل کیلئے بھی یہی لفظ آیا ہے۔ قولہ انی متوفیک میں موت مراد ہونا غیر مسلم ہے۔ اقول غیر مسلم ہے تو میرے اشتہار ہزار روپیہ کا جواب دیجئے جو ازالہ اوہام کے آخر میں ہے۔ کیونکہ اس اشتہار میں غیر مسلم ثابت کرنے والے کیلئے ہزار روپیہ انعام کا وعدہ ہے۔ قوله نزول عیسی ابن مریم سے آپ کو انکار ہے۔ اقول جب کہ عیسی ابن مریم کی حیات ثابت نہیں ہوتی اور موت ثابت ہو رہی ہے۔ تو عیسی کے حقیقی معنے کیونکر مراد ہو سکتے ہیں۔ واطلاق اسم الشیء على ما یہاں کسی قدر عبارت نقل کے وقت چھوٹ گئی ہے۔ مطابق ایڈیشن اوّل شائع کردہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ۔ (ناشر) ال عمران : ۵۶ - المائدة: ۱۵ ۶۳