اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 191
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۹۱ الحق مباحثہ دہلی تب تک آپ کے یہ معنے جس میں آپ منفرد ہیں کیونکر قطعی بن سکتے ہیں کوئی مبسوط تفسیر تو پیش کرو جو ۶۱ ان معنوں سے خالی ہے یا جس نے ان معنوں کو سب سے مقدم رکھا۔ تیرہ سو برس کی تفسیریں اکٹھی کرو اور ان پر نظر ڈال کر دیکھو کیا کوئی بھی آپکی طرح ان معنوں کو نا جائز ٹھہراتا ہے بلکہ سب کے سب آپ ہی کے معنوں کو خفیف ٹھہراتے ہیں ۔ قوله قبل موتهم کی قراءت پر بھی معنے دوم صحیح نہیں ہوتے اور یہ قراءت ہمارے معنے کے مخالف بھی نہیں ہے کیونکہ اس قراءت پر یہ معنے ہونگے کہ ہر یک اہل کتاب اپنے مرنے سے پہلے زمانہ آئندہ میں مسیح پر ایمان لائے گا اور یہ معنے معنے اوّل کے ساتھ جمع ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ زمانہ آئندہ سے زمانہ نزول مسیح مراد لیا جاوے گا۔ اقول حضرت اس قراءت سے مسیح ابن مریم کی زندگی کیونکر اور کہاں ثابت ہوئی آپ تو قبل موتہ کی ضمیر سے مسیح کی زندگی ثابت کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ مسیح کی موت سے پہلے لوگ اس پر ایمان لے آئیں گے اب جب کہ قبل موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھیری گئی تو مسیح کی زندگی جس کا ثابت کرنا آپکا مدعا تھا کہاں اور کن الفاظ سے ثابت ہوئی مجرد ایمان لانے میں تو بحث نہیں بحث تو اس امر میں ہے کہ مسیح ابن مریم زندہ ہے یا نہیں ۔ قوله قراءت قبل موتهم غیر متواترہ ہے۔ اقول ہم نے تفاسیر معتبرہ کے ذریعہ سے اس کی سند پیش کر دی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی اسی کے موافق کہتے ہیں جمہور علماء کا اس کو مقدم رکھتا آیا ہے یعنے اسی کے مطابق معنی کرتا چلا آیا ہے۔ پس اسی قدر ثبوت آپکے دعوے قطعية الدلالت توڑنے کیلئے کافی ہے بھلا اگر آپ حق پر ہیں تو تیرہ سو برس کی تفسیروں میں سے کوئی ایسی تفسیر تو پیش کیجئے جو ان معنوں کی صحت پر معترض ہو تفسیر مظہری کا بیان آپ سن چکے ہیں۔ الہامی معنے جو میں نے کئے ہیں وہ در حقیقت ان معنوں کے معارض نہیں اگر چہ وہ بجائے خود ایک معنے ہیں چونکہ آیت ذوالوجوہ ہے اس لئے جب تک سخت تعارض نہ ہو ہر یک معنی قبول کے لائق ہیں ۔ قوله آیت ولینک میں پڑھنے سے یہ مراد نہیں کہ ہم تجھ کو ہے سے یہ مراد نہیں کہ ہم تجھ کو ہاتھ پکڑ کر قبلہ کی طرف پھیرتے ہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم تجھ کو قبلہ کی طرف پھیرنے کا حکم کرتے ہیں اور شاہ ولی اللہ صاحب و شاہ رفیع الدین ☆ صاحب و شاہ عبد القادر صاحب نے ترجمہ اس لفظ کا بمعنی مستقبل کیا ہے۔ مگر مستقبل قریب ہے۔ اقول ۔ آپ اس بات کے تو قائل ہو گئے کہ یہ مستقبل بعید نہیں ہے بلکہ قریب ہے اور ایسا قریب کہ ایک طرف حکم ہوا اور ساتھ ہی اس کے عمل بھی ہو گیا تو گویا آپ ایک صورت سے ہمارے بیان کو مان گئے کیونکہ ہمارے نزدیک حال کسی ٹھہرنے والے زمانہ کا نام نہیں اور نہ زمانہ میں یہ خاصیت ہے کہ وہ ٹھہر سکے بلکہ وقت سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” میں “ زائد ہے۔ (ناشر)