اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 190

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۹۰ الحق مباحثہ دہلی ۶۰ اور کوئی سات گھنٹہ تک ان کی موت کا قائل ہے اور کوئی تین دن تک جیسا کہ فتح البیان اور معالم التنزیل اور تفسیر کبیر وغیرہ تفاسیر سے ظاہر ہے تو پھر اس صورت میں اس وہم کی اور بھی بیخ کنی ہوتی ہے کہ مسیح کی موت سے پہلے سب اہل کتاب ایمان لے آویں گے ۔ غرض آپ کا نور قلب شہادت دے سکتا ہے کہ جس قدر میں نے لکھا ہے آپ کے دعوے قطعية الدلالت کے توڑنے کیلئے کافی ہے قطعية الدلالت اس کو کہتے ہیں جس میں کوئی دوسرا احتمال پیدا نہ ہو سکے مگر آپ جانتے ہیں کہ اکابر صحابہ اور تابعین کے گروہ نے آپ کے معنے قبول نہیں کئے اور مفسرین نے جا بجا اس آپ کی تاویل کو قبل کے لفظ سے بیان کیا ہے جو ضعف روایت پر دلالت کرتا ہے۔ عام رائے تفسیروں کی یہی پائی جاتی ہے کہ قراءت قبل موتھم کے موافق معنے کرنے چاہیے اور ضمیر بہ کا نہ صرف حضرت عیسی کی طرف بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ جل شانہ کی طرف پھیرتے ہیں ۔ اب آپ کی رائے کی قطعیت کیونکر باقی رہ سکتی ہے۔ برائے خدا خوف الہی کو ہاتھ سے نہ دیں آپ کے منہ کی طرف صدہا آدمی دیکھ رہے ہیں اس زمانہ میں تمام لوگ اندھے نہیں فریقین کے بیانات شائع ہونے کے بعد پبلک خود فیصلہ کرلے گی لیکن جن لوگوں کے دلوں پر آپ کی رائے کا اثر پڑے گا اس کے ذمہ دار اور اس کے مواخذہ کے جوابدہ آپ ٹھہریں گے۔ اور میں نے جو آپ کے قاعدہ نون ثقیلہ کا نام جدید رکھا تو اس کی یہی وجہ ہے کہ اگر آپ کا یہ قاعدہ تسلیم کر لیا جائے تو نعوذ باللہ بقول آپ کے ابن عباس جیسے صحابی کو جاہل و نادان قرار دینا پڑتا ہے اور قراءت قبل موتهم کو خواه نخواه افتراقرار دینا پڑے گا اور آپ کے نحویوں کو معصوم عن الخطا ماننا پڑے گا آپ تو اللہ رسول کے متبع تھے ۔ سیبویہ اور خلیل کے کب سے متبع ہو گئے اب میں آپ کے اقوال باقی ماندہ کو بطرز قولہ اقول کے رد کرتا ہوں۔ قوله ایسے معنے کرنا فاسد ہے کہ یہ کہا جائے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں لائے گا کیونکہ یہ معنے نفس الامر میں تینوں زمانوں پر شامل ہیں۔ اقول جب کہ یہ معنی ابن عباس اور عکرمہ اور علی بن طلحہ و غیرہ صحابہ و تابعین کرتے ہیں اور قرآن ابی بن کعب انہی معنوں کے مطابق ہے تو کیا آپ کا یہ نحوی قاعدہ ان اکابر کو جاہل قرار دے سکتا ہے اور کیا صد ہا مفسرین بلکہ ہزار ہا جواب تک یہ معنے کرتے آئے وہ جاہل مطلق اور آپ کی نحو سے غافل تھے۔ جب تک ان ہزاروں اکابر کا نام آپ قطعی طور پر جاہل نہ قرار دے دیں