البلاغ — Page 222
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۲۲ كتاب البرية لے گئے تھے کہ شاید کوئی آدمی آ جاوے۔ روز روز کہتے تھے کہ وہ کام یاد ہے کہ نہ۔ اور تیار ہو ۱۸۹﴾ کہ نہ۔ میں کہتا تھا کہ یاد ہے اور تیار ہوں۔ یہ اس وقت پوچھتے تھے جب میں مٹھیاں بھرا کرتا تھا۔ محبت بہت کرتے تھے جیسے باپ بیٹے سے۔ سر پر ہاتھ پھیرتے تھے۔ پانچوں وقت مٹھیاں بھرتا تھا۔ لوگ بھی بھرا کرتے تھے۔ مسجد میں مٹھیاں بھرتے تھے۔ غسل خانہ میں مٹھیاں نہیں بھرا کرتا تھا۔ وہ نسل خانہ نہانے اور پیشاب کرنے کی جگہ ہے۔ جس کمرہ بالا خانہ میں مجھے مرزا صاحب لے گئے تھے وہ بھی غسل خانہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ قریب ۲۰۱۸ افٹ کا کمرہ ہے۔ ہر ایک کو نہ میں غسل کرنے کی جگہ بنائی ہوئی ہے۔ پکی جگہ نہیں ہے تختے لگائے ہوئے ہیں۔ اقبال حرف H میں نے خود لکھا تھا۔ کسی نے مسودہ نہیں بنایا تھا۔ پہلے ایک دفعہ لکھا صحیح نہ تھا۔ پھر دوبارہ صاف کر کے لکھا تھا۔ (نوٹ ۔ گواہ سے ایک پرچہ پر نقل اقبال کرائی گئی۔ تین جگہ تحریر میں ہجوں میں غلطی کی ۔ جن پر نشان X کیا گیا ہے اور نشان حرف / H لگایا گیا ہے ) ۔ گواہ۔ میں نے اس کمرہ کو غسل خانہ سمجھا تھا۔ روبروئے ۱۸۹ با قيه حاشيه امام یہی مذہب رکھتے ہیں۔ پھر کس قدر افترا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا زندہ آسمان پر جانا اور پھر واپس آنا اجماعی عقیدہ قرار دیا جائے۔ بلکہ یہ اس زمانہ کے عوام الناس کے خیالات ہیں جبکہ ہزار ہا بدعات دین میں پیدا ہوگئی تھیں اور یہ وسط کا زمانہ تھا جس کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیج اعوج رکھا ہے۔ اور فیج اعوج کے لوگوں کی نسبت فرمایا ہے کہ لَيْسُوا مِنِّی وَ لَسْتُ مِنْهُم یعنی نہ وہ مجھ سے ہیں اور نہ میں ان میں سے ہوں ۔ ان لوگوں نے اس عقیدہ کو اختیار کرنے سے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر چلے گئے اور وہاں قریباً انیس سو برس سے زندہ جسم عنصری موجود ہیں اور پھر کسی وقت ز : ر پھر کسی وقت زمین پر واپس آئیں گے قرآن شریف کی چار جگہ مخالفت کی ہے ۔ اوّل یہ کہ قرآن شریف صریح لفظوں سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ظاہر فرماتا ہے جیسا کہ بیان ہوا اور یہ لوگ ان کے زندہ ہونے کے قائل