البلاغ — Page 221
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۲۱ كتاب البرية ور مجھے رکھو۔ انہوں نے کہا کہ گھر جاؤ اور بائبل پڑھو۔ مجھ کو رکھا نہ تھا۔ پھر میں جہلم چلا گیا۔ اس ۱۸۸ واسطے کہ میرا چچا میرے عیسائی ہونے سے ناراض تھا۔ مرزا صاحب نے میرے شکوک رفع کر دیئے تھے۔ چچا کو راضی کرنے کے واسطے گیا تھا۔ پھر دوبارہ جو بلی کے دو چار روز بعد میں مظہر قادیاں گیا تھا کہ مرزا صاحب نے پہلی دفعہ بیعت نہیں کیا تھا۔ ۱۷۔۱۸ یوم وہاں رہا۔ جانے کے دو روز بعد دست بیچ مرزا صاحب سے ہوا۔ بہت سارے آدمی موجود تھے۔ حکیم نورالدین۔ حکیم فضل الدین وغیرہ قریب عنہ سے آدمی تھے۔ اوپر والی مسجد میں بیعت بیعت کی کی تھی۔ بیعت سے ۹ ۱۰ روز بعد مرزا صاحب زنانہ مکان کے بالا خانہ میں لے گئے تھے۔ جب ظہر کی نماز ہو چکی تو مرزا صاحب نے مجھے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو۔ جب لوگ سارے چلے گئے تو دروازہ کی راہ سے مرزا صاحب مجھے اس کمرہ میں لے گئے ۔ کوئی آدمی نہ تھے۔ اس وقت اوپر کے حصہ مسجد میں نہ تھا۔ اندر جا کر مجھے مرزا صاحب نے بٹھلا دیا اور کہا کہ تم امرتسر میں جاؤ اور اپنے آپ کو ہندو ظاہر کرنا اور کلارک صاحب کو پتھر مار کر مار دینا۔ میں نے اقرار کر لیا۔ اندر اس لئے بقيه حاشيه کوئی بھی نبی زندہ نہیں ہے سب فوت ہو گئے ۔ اور یہ آیت پڑھی کہ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرسل کے اور کسی نے ان کے اس بیان پر انکار نہ کیا۔ پھر ماسوا اس کے امام مالک جیسا امام ۱۸۸ عالم حدیث و قرآن و متقی اس بات کا قائل ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ ایسا ہی امام ابن حزم جن کی جلالت شان محتاج بیان نہیں قائل وفات مسیح ہیں۔ اسی طرح امام بخاری جن کی کتاب بعد كتاب الله اصح الکتب ہے، وفات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں ۔ ایسا ہی فاضل و محدث و مفسر ابن تیمیه و ابن قیم جو اپنے اپنے وقت کے امام ہیں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔ ایسا ہی رئیس المتصوفین شیخ محی الدین ابن العربی صریح اور صاف لفظوں سے اپنی تفسیر میں وفات حضرت عیسی علیہ السلام کی تصریح فرماتے ہیں ۔ اسی طرح اور بڑے بڑے فاضل اور محدث اور مفسر برابر یہ گواہی دیتے آئے ہیں اور فرقہ معتزلہ کے تمام اکابر اور ال عمران : ۱۴۵