آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 346

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۴۶ آئینہ کمالات اسلام ۳۴۶ ہو۔ پس ایسا ہی ہو گیا۔ اس تقریر میں اس وہم کا بھی جواب ہے کہ نزول کیلئے مسیح کو کیوں مخصوص کیا گیا یہ کیوں نہ کہا گیا کہ موسیٰ نازل ہوگا، یا ابراہیم نازل ہوگا، یا داؤ د نازل ہوگا کیونکہ اس جگہ صاف طور پر کھل گیا کہ موجودہ فتنوں کے لحاظ سے مسیح کا نازل ہونا ہی ضروری تھا کیونکہ مسیح کی ہی قوم بگڑی تھی اور مسیح کی قوم میں ہی دجالیت پھیلی تھی۔ اس ۔ پھیلی تھی۔ اس لئے مسیح کی روحانیت کو کی روحانیت کو ہی جوش آنا لائق تھا یہ وہ دقیق ایرو معرفت ہے کہ جو کشف کے ذریعہ سے اس عاجز پر کھلی ہے اور یہ بھی کھلا کہ یوں مقدر ہے کہ ایک زمانہ کے گذرنے کے بعد کہ خیر اور صلاح اور غلبہ توحید کا زمانہ ہوگا پھر دنیا میں فساد اور شرک اور ظلم ردنیا میں فساد اور شرک اور ظلم عود کرے گا اور بعض بعض کو کیڑوں کی طرح کھائیں گے اور جاہلیت غلبہ کرے گی اور دوبارہ مسیح کی پرستش شروع ہو جائے گی اور مخلوق کو خدا بنانے کی جہالت بڑے زور سے پھیلے گی اور یہ سب فساد عیسائی مذہب سے اس آخری زمانہ کے آخری حصہ میں دنیا میں پھیلیں گے۔ تب پھر مسیح کی روحانیت سخت جوش میں آ کر گا جلالی طور پر اپنا نزول چاہے گی۔ تب ایک قہری شبیہ میں اس کا نزول ہو کر اس زمانہ کا خاتمہ ہو جا۔ تب آخر ہو گا اور دنیا کی صف لپیٹ دی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسیح کی امت کی نالائق کر تو توں کی وجہ سے مسیح کی روحانیت کیلئے یہی مقدر تھا کہ تین مرتبہ دنیا میں نازل ہو۔ اس جگہ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت بھی اسلام کے اندرونی مفاسد کے غلبہ کے وقت ہمیشہ ظہور فرماتی رہتی ہے اور حقیقت محمدیہ کا حلول ہمیشہ کسی کامل متنبع میں ہو کر جلوہ گر ہوتا ہے اور جو احادیث میں آیا ہے کہ مہدی پیدا ہوگا اور اس کا نام میرا ہی نام ہوگا اور اس کا خُلق میرا ہی خلق ہوگا۔ اگر یہ حدیثیں صحیح ہیں تو یہ اسی نزول روحانیت کی طرف اشارہ ہے لیکن وہ نزول کسی خاص فرد میں محدود نہیں ۔ صدہا ایسے لوگ گزرے ہیں کہ جن میں حقیقت محمد یہ حق تھی اور عبداللہ علی طور پر ان کا نام محمدی احمد تھا لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت مرحومہ ان فسادوں سے بفضلہ تعالیٰ محفوظ رہی ہے جو حضرت عیسی کی امت کو پیش آئے اور آج تک ہزار ہا صلحاء اور اتقیاء اس امت میں موجود ہیں کہ جو محبہ دنیا کی طرف پشت دیگر بیٹھے ہوئے ہیں پنج وقت تو حید کی اذان کی مساجد میں ایسی گونج پڑتی ہے کہ آسمان تک محمدی توحید کی شعاعیں پہنچتی ہیں پھر کون موقع تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت کو ایسا جوش آتا جیسا کہ حضرت مسیح کی روح میں عیسائیوں کے دل آزار و عظوں اور نفرتی کاموں اور مشرکانہ تعلیموں اور نبوت میں بیجا دخلوں اور خدائے تعالیٰ کی ہمسری کرنے نے پیدا کر دیا۔ اس زمانہ میں یہ جوش حضرت موسیٰ کی روح کو بھی اپنی امت کے لئے نہیں آ سکتا تھا کیونکہ وہ تو نابود ہوگئی