آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 345
روحانی خزائن جلد ۵ ۳۴۵ آئینہ کمالات اسلام تو بڑا مفتری ہے پہلے تو خدائے تعالیٰ کا اقرار کرتا تھا اور خدا تعالیٰ کا کلام ہم کو سنا تا تھا اور اب اس ۳۴۵ سے انکار ہے اور اب آپ خدا بنتا ہے۔ پھر جب اول دفعہ تیرے ہی اقرار سے تیرا جھوٹ ثابت ہو گیا تو دوسرا دعوی کیونکر سچا سمجھا جائے جس نے پہلے خدائے تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کر لیا اور اپنے تیں بندہ قرار دے دیا اور بہت سا الہام اپنا لوگوں میں شائع کر دیا کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے وہ کیونکر ان تمام اقرارات سے انحراف کر کے خدا ٹھہر سکتا ہے اور ایسے کذاب کو کون قبول کر سکتا ہے۔ سو یہ معنے ؟ جو ہمارے علماء لیتے ہیں بالکل فاسد ہیں ۔ صحیح معنے یہی ہیں کہ نبوت کے دعوی سے مراد دخل در امور نبوت اور خدائی کے دعوئی سے مراد دخل در امور خدائی ہے جیسا کہ آج کل عیسائیوں سے یہ حرکات ظہور میں آ رہی ہیں۔ ایک فرقہ ان میں سے انجیل کو ایسا توڑ مروڑ رہا ہے کہ گویا وہ نبی ہے اور اس پر آیتیں نازل ہو رہی ہیں ۔ اور ایک فرقہ خدائی کے کاموں میں اس قدر دخل دے رہا ہے کہ گویا وہ خدائی کو اپنے قبضہ میں کرنا چاہتا ہے۔ غرض یہ دجالیت عیسائیوں کی اس زمانہ میں کمال درجہ تک پہنچ گئی ہے اور اس کے قائم کرنے کیلئے پانی کی طرح انہوں نے اپنے مالوں کو بہا دیا ہے اور کروڑ ہا مخلوقات پر بداثر ڈالا ہے۔ تقریر سے تحریر سے مال سے عورتوں سے گانے سے بجانے سے تماشے دکھلانے سے ڈاکٹر کہلانے سے۔ غرض ہر ایک پہلو سے ہر یک طریق سے ہر یک پیرایہ سے ہر یک ملک پر انہوں نے اثر ڈالا ہے۔ چنانچہ چھ کروڑ تک ایسی کتاب تالیف ہو چکی ہے جس میں یہ غرض ہے کہ دنیا میں نا پاک طریق عیسی پرستی کا پھیل جائے پس اس زمانہ میں دوسری مرتبہ حضرت مسیح کی روحانیت کو جوش آیا اور انہوں نے دوبارہ مثالی طور پر دنیا میں اپنا نزول چاہا اور جب ان میں مثالی نزول کے لئے اشد درجہ کی توجہ اور خواہش پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے اس خواہش کے موافق دجال موجودہ کے نابود کرنے کے لئے ایسا خص حج دیا جو ان کی روحانیت کا نمونہ تھا وہ نمونہ مسیح علیہ السلام کا رو السلام کا روپ بن کر مسیح موعود کہلایا کیونکہ حقیقت عیسویہ کا اس میں حلول تھا یعنی حقیقت عیسو یہ اس سے متحد ہوگئی تھی اور مسیح کی روحانیت کے تقاضا سے وہ پیدا ہوا تھا۔ پس حقیقت عیسو یہ اس میں ایسی منعکس ہو گئی جیسا کہ آئینہ میں اشکال اور چونکہ وہ نمونہ حضرت مسیح کی روحانیت کے تقاضا سے ظہور پذیر ہوا تھا اس لئے وہ عیسی کے نام سے موسوم کیا گیا کیونکہ حضرت عیسیٰ کی روحانیت نے قادر مطلق عز اسمۂ سے بوجہ اپنے جوش کے اپنی ایک شبیہ چاہی اور چاہا کہ حقیقت عیسو یہ اس شبیہ میں رکھی جائے تا اس شبیہ کا نزول