آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 199

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۹۹ آئینہ کمالات اسلام بمراد ازاله و هم نورافشان ۱۳ را کتوبر ۱۸۹۲ء انجیل یوحنا ا ا باب ۔ آیت میں حضرت عیسی علیہ السلام کا قول یہ لکھا ہے کہ قیامت اور زندگی میں ہی ہوں جو مجھ پر ایمان لاوے اگر چہ وہ مر گیا ہو تو بھی جئے گا یعنی گناہ اور نافرمانی اور غفلت اور کفر کی موت سے نجات پا کر اطاعت الہی کی روحانی زندگی حاصل کر لے گا۔ انجیل کے اس فقرہ پر ایڈیٹر نور افشاں نے اپنے پر چہ ۱۳ اکتوبر ۱۸۹۲ء میں کم فہمی کی راہ سے لکھا ہے کہ آدم سے تا ایندم کوئی شخص دنیا کی تو اریخ میں ایسا نہیں ہوا جس نے ایسا بھاری دعوی کیا ہو اور اپنے حق میں ایسے لفظ استعمال کئے ہوں کہ قیامت اور زندگی میں ہوں اور اگر کوئی ایسا کہتا تو اس کے مطابق ثابت کر دینا غیر ممکن قيه حاشيه بقیه حاشیه در حاشیه جنت اور جہنم اور خدا تعالیٰ کا وجود ایسا ثابت ہو جائے جیسا کہ آج کل کی تحقیقا توں سے اکثر معمورہ ارض اور بہت سی نباتات اور کانوں کا پتہ لگ گیا ہے مگر جس چیز کو خدا تعالیٰ نے اول روز سے انسان کی نجات کا ایک طریق نکالنے کے لئے ایمانیات میں خاص ہیں اور دنیا کی تمام قوموں کا سات دنوں پر اتفاق ہونا اور ایک دن تعطیل کا نکال کر چھ دنوں کو کاموں کے لئے خاص کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ چھ دن ان چھ دنوں کی یادگار چلے آتے ہیں کہ جن میں زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے بنایا گیا تھا۔ اور اگر کوئی اب بھی تسلیم نہ کرے اور انکار سے باز نہ آوے تو ہم کہتے ہیں کہ ہم نے تو عالم کبیر کے لئے عالم صغیر کی پیدائش کے مراتب ستہ کا ثبوت دے دیا اور جو کام کرنے کے دن بالاتفاق هر یک قوم میں مسلم ہیں ان کا چھ ہونا بھی ظاہر کر دیا اور یہ بھی ثابت کر دیا کہ ا سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ۲۵ “ ہونا چاہیے۔ (ناشر) ۱۹۹