آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 198
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۹۸ آئینہ کمالات اسلام ۱۹۸) اس کی تعلیم کامل نہیں ہے اور وہ ایک ہی پہلو پر چلی جاتی ہے اور دوسرے پہلو کو بکلی چھوڑ رہی ہے لیکن دراصل یہ قصور ان استعدادوں کا ہے جن کے لئے انجیل نازل ہوئی تھی چونکہ خدا تعالیٰ نے انسانی استعدادوں کو تدریجاً ترقی دی ہے اس لئے اوائل زمانوں میں اکثر ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے کہ جو نبی اور بلید اور کم عقل اور کم فہم اور کم دل اور کم ہمت اور کم یقین اور پست خیال اور دنیا کے لالچوں میں پھنسے ہوئے تھے اور دماغی اور دلی قوتیں ان کی نہایت ہی کمزور تھیں مگر ان زمانوں کے بعد ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ زمانہ آیا جس میں رفتہ رفتہ استعدادیں ترقی کر گئیں گویا دنیا نے اپنے فطرتی قوئی میں ایک اور ہی صورت بدل لی پس ان کی کامل استعدادوں کے موافق کامل تعلیم نے نزول فرمایا ۔ نشانوں کے بعد اس قبول پر ایمان کا لفظ کیونکر اطلاق کریں گے کون شخص ہے جو حقائق بد یہ بینہ کو قبول نہیں کرتا غرض فلسفہ والوں کے خیالات کی بنیاد ہی غلط ہے وہ چاہتے ہیں کہ کل ایمانیات کو علوم مشہودہ محسوسہ میں داخل کر دیں اور ملائک اور کرنا اگر نادانوں کا کام نہیں تو اور کس کا ہے؟ یا اب پھر ہم اپنے پہلے کلام کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ چونکہ عالم صغیر میں جو انسان ہے سنت اللہ یہی ثابت ہوئی ہے کہ اس کے وجود کی تکمیل چھ مرتبوں کے طے کرنے کے بعد ہوتی ہے تو اسی قانون قدرت کی رہبری سے ہمیں معقولی طور پر یہ راہ ملتی ہے کہ دنیا کی ابتدا میں جو اللہ جل شانہ نے عالم کبیر کو پیدا کیا تو اس کی طرز پیدائش میں بھی یہی مراتب ستہ ملحوظ رکھے ہوں گے اور ہر ایک مرتبہ کو تفریق اور تقسیم کی غرض سے ایک دن یا ایک وقت سے مخصوص کیا ہو گا جیسا کہ انسان کی پیدائش کے مراتب ستہ چھ وقتوں سے