آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 185
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۸۵ آئینہ کمالات اسلام حسن L یہ دونوں قسم کے وسائل جن پر حقیقت اسلامیہ کا حاصل ہونا موقوف ہے قرآن کریم (۱۸۵) میں ان دونوں وسیلوں کی طرف اس آیت میں اشارہ فرمایا گیا ہے ۔ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعَلَمُوا - الجزو نمبر ۲۲ سورة الفاطر - یعنی اللہ جل شانہ سے وہ لوگ ڈرتے ہیں جو اس کی عظمت اور قدرت اور احسان اور اور جمال پر علم کامل ر ر علم کامل رکھتے ہیں خشیت اور اسلام در حقیقت اپنے مفہوم کے رو سے ایک ہی چیز ہے کیونکہ کمال خشیت کا مفہوم اسلام کے مفہوم کو مستلزم ہے۔ پس اس آیت کریمہ کے معنوں کا مال اور ماحصل یہی ہوا کہ اسلام کے حصول کا وسیلہ کاملہ یہی علم عظمت ذات وصفات باری ہے جس کی ہم تفصیل لکھ چکے ہیں اور اسی کی طرف در حقیقت اشارہ اس آیت میں بھی ہے - يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ اور یہ خیال کہ اگر مدبرات اور مقسمات امر فر شتے ہیں تو پھر ہماری تدبیریں کیوں پیش جاتی ہیں اور کیوں اکثر امور ہمارے معالجات اور تدبیرات سے ہماری مرضی کے موافق ہو جاتے ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ وہ ہمارے معالجات اور تدبیرات بھی فرشتوں کے دخل اور القاء اور الہام سے خالی نہیں ہیں جس کام کو فرشتے باذنه تعالی کرتے ہیں وہ کام اس شخص یا اس چیز سے لیتے ہیں جس میں فرشتوں کی تحریکات کے اثر کو قبول کرنے کا فطرتی مادہ ہے مثلاً فرشتے جو ایک کھیت یا ایک گاؤں یا ایک ملک میں باذنہ تعالیٰ پانی برسانا چاہتے ہیں تو وہ آپ تو پانی نہیں بن سکتے اور نہ آگ سے مخفیہ کی شناخت کے لئے ایک آئینہ کا حکم رکھتا ہے پس جب کہ اس کی پیدائش کے چھ مرتبے ثابت ہوئے تو قطعی طور پر یہ حکم دے سکتے ۔ یہ حکم دے سکتے ہیں کہ عالم کبیر ۔ ہ عالم کبیر کے بھی مراتب تکوین چھ ہی ہیں جو بلحاظ موثر ات ستہ یعنی تجلیات ستہ جن کے آثار باقیہ نجوم ستہ میں محفوظ رہ فاطر: ۲۹