آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 184
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۸۴ آئینہ کمالات اسلام ۱۸۴ ہیں اور اس محبوب حقیقی کے احسانات جو انسان پر ہیں وہ دفتروں میں سما نہیں سکتے کیونکہ اس کی نعمتیں بے شمار ہیں گناہ پر گناہ دیکھتا ہے اور احسان پر احسان کرتا ہے اور خطا پر خطا پاتا ہے اور نعمت پر نعمت دیتا ہے۔ در حقیقت نہ زید ہم سے کچھ بھلائی کر سکتا ہے اور نہ بکر نہ آفتاب اپنی روشنی سے ہم کو کچھ فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ ماہتاب اپنے نور سے ہم کو کوئی نفع دے سکتا ہے نہ ستارے ہمارے کام آسکتے ہیں نہ ان کی تاثیر کچھ چیز ہے ایسا ہی نہ دوست کام آ سکتا ہے نہ فرزند غرض کوئی چیز بھی ہمیں آرام نہیں پہنچا سکتی جب تک وہ ارادہ نہ فرمادے ۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ ہزار ہا اور بے شمار طریقوں سے جو ہماری حاجات پوری ہوتی ہیں در حقیقت یہ فضل اسی منعم حقیقی کی طرف سے ہے پس اس کے انعامات کو کون گن سکتا ہے ۔ اگر ہم انصاف سے بولیں تو ہمیں یہ شہادت دینی پڑے گی کہ کسی نے ہم سے ایسا پیار نہیں کیا جیسا کہ اس نے ــقـيـ دراصل پہلے اعتراض کی ایک فرع ہیں محجوب ہونے کی حالت میں جیسے فرشتے نظر نہیں آتے اور جیسے خدا تعالیٰ کا بھی کچھ پتہ نہیں لگتا صرف اپنے خیالات پر سارا مدار ہوتا ہے۔ ایسا ہی فرشتوں کے کاموں کا بھی جو روحانی ہیں کچھ احساس نہیں ہوتا ۔ اس جگہ یہ مثل ٹھیک آتی ہے کہ ایک اندھے نے آفتاب کے وجود کا انکار کر دیا تھا کہ ٹٹولنے سے اس کا کچھ پتہ نہیں ملتا تب آفتاب نے اس کو مخاطب کر کے کہا کہ اے اندھے میں ٹٹولنے سے معلوم نہیں ہو سکتا کیونکہ تیرے ہاتھوں سے بہت دور ہوں تو یہ دعا کر کہ خدا تعالیٰ تجھ کو آنکھیں بخشے تب تو آنکھوں کے ذریعہ سے مجھے دیکھ لے گا۔ عالم صغیر میں مراتب تکوین موجود ہیں وہی مراتب تکوین عالم کبیر میں بھی ملحوظ ہوں اور ہم صریح اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ یہ عالم صغیر جوانسان کے اسم سے موسوم ہے اپنی پیدائش میں چھ طریق رکھتا ہے اور کچھ شک نہیں کہ یہ عالم عالم کبیر کے کوائف