آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 173
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۷۳ آئینہ کمالات اسلام ضلالت آیات کا مقابلہ کر کے صاف طور پر کھلتا ہے کہ اس صاف طور پر کھلتا ہے کہ اس جگہ خال کے معنے گمراہ نہیں ہے بلکہ ۱۷۳ انتہائی درجہ کے تعشق کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ حضرت یعقوب کی نسبت اسی کے مناسب یہ آیت ہے ان ہے إِنَّكَ لَفِي ضَلِلِكَ الْقَدِيمِ ! سو یہ دونوں لفظ ظلم اور ضلا اگر چہ ان معنوں پر بھی آتے ہیں کہ کوئی شخص جادہ اعتدال اور انصاف کو چھوڑ کر اپنے شہوات غضبیہ یا بہیمیہ کا تابع ہو جاوے۔ لیکن قرآن کریم میں عشاق کے حق میں بھی آئے ہیں جو خدا تعالیٰ کے راہ میں عشق کی مستی میں اپنے نفس اور اس کے جذبات کو پیروں کے نیچے کچل دیتے ؟ دیتے ہیں ۔ اسی کے مطابق حافظ شیرازی کا یہ شعر ہے۔ آسمان بار امانت نتوانست کشید قرعه فال بنام من دیوانه زدند اس دیوانگی سے حافظ صاحب حالت تعشق اور شدت حرص اطاعت مراد لیتے ہیں۔ کیونکہ نفس ناطقہ نہایت تجرد اور لطافت میں تھا اور بدن انسان محجوب بنفسہ اور کثافت اور ظلمت میں پڑا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان میں قومی روحانیہ اور حسیہ کو ذوجهتین پیدا کیا تا وہ قوئی نفس ناطقہ سے فیضان قبول کر کے تمام جسم کو اس سے متادب اور مہذب کریں ۔ بقيا بقیه حاشیه در حاشیه جاننا چاہئے کہ انسان بھی ایک عالم صغیر ہے اور عالم کبیر کے تمام شیون اور صفات اور خواص اور کیفیات اس میں بھری ہوئی ہیں جیسا کہ اس کی طاقتوں اور قوتوں سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ ہر ایک چیز کی طاقت کا یہ نمونہ ظاہر کر سکتا ہے زمین اور آسمانوں کو چھ دن میں بنایا اور پھر عرش پر ٹھہرا یہ چھ دن کی کیوں تخصیص ہے یہ تو تسلیم کیا کہ خدا تعالیٰ کے کام اکثر تدریجی ہیں جیسا کہ اب بھی اس کی خالقیت جو جمادات اور نباتات اور حیوانات میں اپنا کام کر رہی ہے تدریجی طور پر ہی ہر ایک چیز کو اس کی خلقت کا ملہ تک پہنچاتی ہے يوسف : ۹۶