آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 172

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۷۲ آئینہ کمالات اسلام ﴿۱۲﴾ ضَالَّا فَهَدًی اِس کے مقابل پر یہ فرمایا وَأَمَّا السَّابِلَ فَلَا تَنْهَرُ یعنی یاد کر کہ تو بھی ہمارے وصال اور جمال کا سائل اور ہمارے حقائق اور معارف کا طالب تھا سو جیسا کہ ہم نے باپ کی جگہ ہو کر تیری جسمانی پرورش کی ایسا ہی ہم نے استاد کی جگہ ہو کر تمام دروازے علوم کے تجھ پر کھول دیئے اور اپنے لقا کا شربت سب سے زیادہ عطا فرمایا اور جو تو نے مانگا سب ہم نے تجھ کو دیا سو تو بھی مانگنے والوں کو ردمت کر اور ان کو مت جھڑک اور یاد کر کہ تو عائل تھا اور تیری معیشت کے ظاہری اسباب بکلی منقطع تھے سو خدا خود تیرا متوتی ہوا اور غیروں کی طرف حاجت لے جانے سے تجھے غنی کر دیا ۔ نہ تو والد کا محتاج ہوا نہ والدہ کا نہ استاد کا اور نہ کسی غیر کی طرف حاجت لے جانے کا بلکہ یہ سارے کام تیرے خدا تعالیٰ نے آپ ہی کر دیئے اور پیدا ہوتے ہی اس نے تجھ کو آپ سنبھال لیا۔ سو اس کا شکر بجالا اور حاجت مندوں سے تو بھی ایسا ہی معاملہ کر ۔ اب ان تمام خدا تعالیٰ نے زمین اور آسمانوں کو چھ دن میں کیوں پیدا کیا اشيه بقیه حاشیه در حاشب مضغہ میں ہمارے جنین میں اور ہماری ہر یک حرکت میں اور سکون میں اور قول میں اور فعل میں غرض ہماری تمام مخلوقیت کے لوازم میں کام کرتی ہے مگر وہ قیومیت بوجہ ہمارے محجوب با نفسنا ہونے کے براہ راست ہم پر نازل نہیں ہوتی کیونکہ ہم میں اور اس ذات الطف اللطائف اور اعلیٰ اور اغنی اور نور الانوار میں کوئی مناسبت درمیان نہیں کیونکہ ہر ایک چیز ہم میں سے خواہ وہ جاندار ہے یا بے جان محجوب بنفسہ اور ساحت قدسیہ تنزہ سے بہت دور ہے اس لئے خدا تعالیٰ میں اور ہم میں ملائک کا وجو د اسی طرح ضروری ہوا جیسا کہ نفس ناطقہ اور بدن انسان میں قوائے روحانیہ اور حسیہ کا توسط ضروری ٹھہرا اور اس جگہ کے متعلق ایک اور اعتراض ہے جو بعض نا واقف آریہ پیش کیا کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمُوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ یعنی خدا نے جو تمہارا رب ہے ا یونس : ۴