آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 110
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۱۰ آئینہ کمالات اسلام تو ہین کر رہے ہیں اس طور اور طریق کا بیان ۔ حال کے مولوی جس طور سے آنحضرت صلعم کی دوسری بات ناظرین کی توجہ کے لائق یہ ہے کہ ان مولویوں نے بات بات میں حضرت عیسیٰ کو بڑھایا اور ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ۔ غضب کی بات ہے کہ ان کا عقیدہ حضرت مسیح کی نسبت تو یہ ہو کہ کبھی روح القدس اُن سے جدا نہیں ہوتا تھا اور مس شیطان سے وہ بری تھے اور یہ دونوں باتیں انہیں کی خصوصیت تھی لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ان کا یہ اعتقاد ہو کہ نہ روح القدس ہمیشہ اور ہر وقت اُن کے پاس رہا اور نہ وہ نعوذ باللہ نقل کفر کفر نباشد مس شیطان سے بری تھے ۔ با وجود ان باتوں کے یہ لوگ مسلمان کہلا دیں ان کی نظر میں ہمارے سید و مولی محمد صلی اللہ علیہ وسلم مردہ مگر حضرت عیسی اب تک زندہ ۔ اور عیسی کے لئے روح القدس دائمی رفیق مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ اس نعمت سے بے بہرہ اور حضرت عیسی میں شیطان سے محفوظ مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ نہیں اول المومنین ہوں ۔ ان الہامات کے بعد کئی طور کے نشان ظاہر ہونے شروع ہوئے چنانچہ منجملہ ان کے ایک یہ کہ ۲۸ نومبر ۱۸۸۵ء کی رات کو یعنی اس رات کو جو ۲۸ رنومبر ۱۸۸۵ء کے دن سے پہلے آئی ہے اِس قدرت شہب کا تماشا آسمان پر تھا جو میں نے نین تمام مر میں اسکی نظیر بی نہیں دکھی اور آسان کی فضا میںاس قدر ہزار املی برطرف چل رہے تھے جو اس رنگ کا دنیا میں کوئی بھی نمونہ نہیں تا میں اس کو بیان کر سکوں مجھ کو یاد ۲۸ نومبر ۱۸۸۵ء کی کثرت شہب کا حال بقيه حاشيه ہے کہ اُس وقت یہ الہام بکثرت ہوا تھا کہ ما رميت اذ رميت ولكن الله رمی سو اُس رمی کو رمی شہب سے بہت مناسبت تھی ۔ یہ شہب ثاقبہ کا تماشہ جو ۲۸ رنومبر ۱۸۸۵ء کی رات کو ایسا وسیع طور پر ہوا جو یورپ اور امریکہ اور ایشیا کے عام اخباروں میں بڑی حیرت کے ساتھ چھپ گیا لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ یہ بے فائدہ تھا۔ لیکن خداوند کریم