آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 109

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۰۹ آئینہ کمالات اسلام قرین مصلحت سمجھا ہے تب وہ سب اُس کے ہم کلام ہو جاتے ہیں۔ پھر جبرائیل اس وحی کو ۱۰۹ اس جگہ پہنچا دیتا ہے جس جگہ پہنچانے کے لئے اُس کو حکم تھا خواہ آسمان یا زمین ۔ اب اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نزول وحی کے وقت جبرائیل آسمان پر ہی ہوتا ہے اور پھر جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اُس کی آواز میں قوت اور قدرت بخشی ہے اپنے محل میں اُس وحی کو پہنچا دیتا ہے۔ اس صورت میں یہ عقیدہ رکھنا کہ گو یا جبرائیل اپنے اصلی وجود کے ساتھ آسمانوں سے ہجرت کر کے حضرت عیسی کے پاس آ گیا تھا اور تینتیس برس برابر ان کے پاس رہا اور وہ تمام خدمات جو آسمانوں پر اُس کے سپر دتھیں جن کا ہم ابھی ذکر کر چکے ہیں وہ تینتیس برس تک معرض التوا میں رہیں کیسا باطل عقیدہ ہے جس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وحی بغیر توسط جبرائیل کے خود بخود زمین پر نازل ہوتی تھی اور زمین پر ہی وہ وحی جبرائیل کو مل جاتی تھی ۔ ه حاشيه حکایت اس عقیدہ کے بطلا بطلان کا بیان کا آسمانوں کو چھوڑ کر حضرت مسیح کے پاس ہر وقت کی رہائش اختیار کر لی تھی ۔ بان کہ جبرائیل نے اپنے اصلی وجود کے ساتھ مجھ کو یاد ہے کہ ابتدائے وقت میں جب میں مامور کیا گیا تو مجھے یہ الہام ہوا کہ جو براہین کے صفحہ ۲۳۸ میں مندرج ہے یا احمد بارک الله فیک ما رميت اذا رميت ولكن الله رمى۔ الرحمن علم القرآن۔ لتنذر قوما ما انذر آباء هم ۔ و لتستبين سبيل المجرمين۔ قُل انى امرت و انا اول المؤمنين - یعنی اسے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی اور جو تو نے چلا یا یہ تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا۔ خدا نے چلایا اُس نے تجھے علم قرآن کا دیا تا تو ان کو ڈراوے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے : گئے ۔ اور تا مجرموں کی راہ کھل جائے یعنی سعید لوگ الگ ہو جائیں اور شرارت پیشہ اور سرکش آدمی الگ ہو جائیں اور لوگوں کو کہہ دے کہ میں مامور ہو کر آیا ہوں اور میں حکایت