ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 150

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۵۰ ۲۰ واشكو عدوا لا يزال بمرصد ۱۳۵ يراقبني فيما اقول وما انبي مداج يهيج الشر من اى وجهة ١٣٦ ويرشقني ارشاق من ريع بالسلب يحرق انيابا على عداوة | ۱۳۷ | كاني اوجعت المنافق بالغصب بمقدمك الميمون طابت بشارة | ۱۳۸ | واسفرت الدنيا لكل اخي لب وزالت بها الاتراح عن قلب محمد ۱۳۹ و قام به داعي المسرة و الرحب فلازلت للاسلام عونا وعزّة ١٤٠ يهابك من يأباه في الشرق والغرب ۱۳۵۔ میں ایک دشمن کی شکایت کرتا ہوں جو برابر گھات میں لگا ہوا میرے اقوال کو تا کتا رہتا ہے۔ ۱۳۶۔ وہ ایک منافق ہے جو ہر طرح شراٹھاتا رہتا ہے اور مجھے یوں تیر مارتا ہے جیسے وہ شخص جسے اسکا اسباب لوٹنے کی دھمکی دیجاوے۔ ۱۳۷۔ وہ مارے بغض کے مجھ پر دانت پیتا رہتا ہے جیسے میں نے اسکا کچھ چھین کر اسے ستایا ہے۔ ۱۳۸۔ حضور کے قدوم مبارک سے دنیا بشارت پا کر خوش ہو گئی ہے اور عقلمندوں کو روشن نظر آنے لگی ہے۔ ۱۳۹ ۔ اس بشارت کو پاکر آزردہ دلوں کے رنج دور ہو گئے اور بجائے اس کے دلوں میں خوشی اور فراخی کے ولولے پیدا ہو گئے ۔ ۱۴۰۔ میری دعا ہے کہ حضور اسلام کے مددگار اور باعث عزت رہیں ! اور منکرانِ اسلام شرق و غرب سے آپ سے خوف کھاتے رہیں۔