ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 149
19 ۱۴۹ روحانی خزائن جلد ۴ واشقى عباد الله من صار جاحدًا ۱۲۵ لفضلك واستهواه ابليس في الشقب فاخزاه في الدنيا وسود وجهه ١٢٦ و قدامه يوم الندامة والسحب دعاني الى ذا النظم صدق مودّة ۱۲۷ وفرط اشتياق كان مستوطن القلب فهاك امام المومنين حديقة ۱۲۸ منضرة الاشجار مخضرة القضب و دونک منى روضة مستطابة | ۱۲۹ سقاها الحجى سقى السحائب لا الغرب يروق عيون الناظرين ابتسامها | ۱۳۰ اذا سرحت فيها قلوبهم يطبى قواف تزيد السامعين اشتياقكم ۱۳۱ اذا انشدوها نحوا عتابكم يصبى احن اليكم والديار بعيدة ۱۳۲ وشوق لقاء ينجد العين بالسكب تهز الـنـسـيــم الــقــلــب حين هبوبها | ۱۴۴ | كهز لســـان بــالثـنــا دايما رطب سقام وبعد ثم عذر ووحدة ۱۳۴ فكيف الحدور السهل في المرتقى العصب ۱۲۵۔ بڑا ہی تقی بندہ ہے جو تیری فضیلت کا منکر ہوا۔ اور اسے شیطان نے وادی ضلالت میں پھینک دیا۔ ۱۲۶۔ خدا نے اسے دنیا میں ذلیل اور روسیاہ کر دیا اور عاقبت میں اسکے سامنے دخول جہنم اور ندامت ہے۔ ۱۲۷۔ میں نے یہ قصیدہ مدحیہ حض اخلاص محبت اور کمال اشتیاق سے جو میرے دل میں جاگزین ہے لکھا ہے۔ ۱۲۸۔ اے امام المومنین ! لیجئے یہ ایک باغ ہے جس کی شاخیں اور درخت سب سرسبز ہیں۔ ۱۲۹۔ میری طرف سے یہ باغ عجیب تحفہ قبول فرمائیے ۔ یہ باغ سدا سرسبز رہنے والا ہے اور کبھی خزاں کا منہ نہ دیکھے گا۔ ۱۳۰۔ اس کی شگفتگی ناظرین کی آنکھوں کو خنک کر دیتی ہے اور جب انکے دل اس میں سیر و تفریح کریں تو انہیں خوش و خرم کرتی ہے۔ ۱۳۱۔ یہ ایسے اشعار ہیں کہ جب پڑھے جائیں گے تو سامعین کے دلوں میں اشتیاق پیدا کرینگے پھر وہ شوق حضور کی آستان بوسی کی طرف انھیں مائل کرے گا۔ ۱۳۲۔ میں آپ کا مشتاق ہو رہا ہوں ۔ ملک بہت دور ہے اور شوق ملاقات میں میری آنکھیں آنسو برسا رہی ہیں ۔ ۱۳۳۔ جب نسیم چلتی ہے میرے دل کو جنبش دے جاتی ہے جسطرح میری زبان حضور کی مدح وثنا میں ہمیشہ حرکت کرتی رہتی ہے۔ ۱۳۴۔ بیماری۔ دوری ۔ عذرا اور تنہائی اور اس پر دشوار گزار بیابان اور کٹھن منزلیں میری راہ میں حائل ہیں۔