ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 140
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۴۰ ا شرقت بايذاء اللئام وشرهم ۳۵ وفتنتهم لا بـالـمـلام ولا الـعــب لعمرى هذى النائبات اخفها ۳۶ اشد على الانسان من وقعة القضب رعـى الــلــه طـيـفـــا قـد اتاني بفرحة ٣٧ تكاد بهـا انـجو من الهم والنصب فانی بليل بين هدء و رقدة ۳۸ اذا شيم برق الشرق في اسرع الوثب اضاءت به الأفاق والارض كلها ٣٩ وحار البـرايـا فيه خوفا من الخطب ففاهـوا بما شاء وا ولم يتفكروا ۴۰ الفرط اختباط بالضجيج وبالصخب وكم مدع للعلم من فرط جهله ا تاوله بالهرج والطعن والضرب تـــانــقـــت فيه غير يوم وليلة | ۴۲ اراقب ما يبدى الزمان من العجب وقد اجتلى آثار خير ورحمة ٤٣ من الجانب الشرقي مستوطن الخصب وانشق من ريح الصبا كل سحرة ۴۴ روايح تروى القلب كا لغصن الرطب ۳۵۔ میں خبیث طینت لوگوں کے شر وفتنہ سے نہ انکی ملامت و عتاب سے سخت تنگ آ گیا ہوں ۔ ۳۶۔ بخدا یہ ایسی مصیبتیں ہیں کہ ان میں سے ہلکی سے ہلکی بھی انسان پر تلوار کی ضرب سے زیادہ شدید ہیں۔ ۳۷۔ اللہ تعالیٰ اس خیال کا حافظ و ناصر ہو جو میرے پاس ایسی بشارت لایا جس سے امید پڑتی ہے کہ میں غم والم سے نجات پا جاؤں گا ۔ ۳۸۔ اس کا واقعہ یوں ہے کہ میں ایک رات کچھ بیداری اور نیند کے درمیان تھا کہ شرقی بجلی اس زور سے گوندتی نظر آئی۔ ۳۹۔ کہ ساری دنیا اسکی روشنی سے منور ہوگئی اور لوگ حیران ہو کر کہنے لگے کہ کوئی بڑا حادثہ واقع ہوا چاہتا ہے۔ ۴۰۔ جو کچھ کسی کے منہ میں آیا بولتا رہا۔ مگر کسی کو بھی شدت اضطراب اور شور وغل کی وجہ سے سوچنے کا موقع نہ ملا۔ ۴۱۔ بعض مدعیان علم نے بڑی جہالت سے اسکی یہ تاویل کی کہ کوئی بڑا فتنہ اور جنگ ہونے والی ہے۔ ۴۲۔ میں بھی اس امر میں کئی رات دن غور کرتا رہا اور منتظر تھا کہ زمانہ کیا عجیب واقعہ ظاہر کیا چاہتا ہے۔ ۴۳۔ مگر میں اپنے زعم میں مبارک سرزمین مشرق کی طرف سے رحمت و خیر کے آثار کا منتظر تھا۔ ۴۴ ۔ اور مشرقی ہوا سے ہر سحر مجھے ایسی خوشبو آتی ۔ جو شاخ تر کی طرح دل کو تر و تازہ کر جاتی ۔