ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 100
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۰۰ مباحثہ لدھیانہ ۹۸ احادیث کا معیار نہیں کیونکہ صاحب تلویح نے آپکو اس بارہ میں جھوٹا ٹھہرایا ہے! اور تینوں امام اسی ۹۸ رائے میں آپکے مخالف ہیں ! اور میں بیان کر چکا ہوں کہ میرا مذہب بھی اسی قدر ہے کہ باستثناء سفن متوارثہ متعاملہ کے جو احکام اور فرائض اور حدود کے متعلق ہیں باقی دوسرے حصہ کی احادیث میں سے جو اخبار اور قصص اور واقعات ہیں جن پر نسخ بھی وارد نہیں ہوتا اگر کوئی حدیث نصوص بینہ قطعیہ صريحة الدلالت قرآن کریم سے صریح مخالف واقع ہو گو وہ بخاری کی ہو یا مسلم کی میں ہرگز اس کی اس طرز کے معنی کو جس سے مخالفت قرآن لازم آتی ہے قبول نہیں کروں گا۔ میں بار بار اپنے مذہب کو اس لئے بیان کرتا ہوں کہ تا آپ اپنی عادت کے موافق پھر کوئی تازہ افترا اور بہتان میرے پر نہ لگاویں اور نہ لگانے کی گنجائش ہو اور ظاہر ہے کہ یہ میرا مذہب امام شافعی اور امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے مذہب کی نسبت حدیث کی بہت رعایت رکھنے والا ہے کیونکہ میں صحیحین کی خبر واحد کو بھی جو تعامل کے سلسلہ سے موکد ہے اور احکام اور حدود اور فرائض میں سے ہو نہ حصہ دوم میں سے اس لائق قرار دیتا ہوں کہ قرآن پر اس سے زیادتی کی جائے اور یہ مذہب ائمہ ثلاثہ کا نہیں مگر یادر ہے کہ میں واقعی زیادتی کا قائل نہیں بلکہ میرا ایمان انا انزلنا الكتاب تبیانالکل شیء پر ہے جیسا کہ میں ظاہر کر چکا ہوں۔ اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میں اس مذہب میں اکیلا نہیں ہوں بلکہ اپنے ساتھ کم سے کم تین یار غالب رکھتا ہوں جن کا عقیدہ میرے موافق بلکہ مجھ سے بڑھ چڑھ کر ہے۔ قوله ۔ اور آپ کا یہ کہنا کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے احادیث بخاری کو چھوڑ دیا یہ بھی عامیانہ بات ہے۔ آپ یہ نہیں جانتے کہ امام اعظم کب ہوئے اور صحیح بخاری کب لکھی گئی۔ اقول - جناب مولوی صاحب آپ ایمان کے ساتھ جواب دیں کہ میں نے کب اور کہاں لکھا ہے کہ صحیح بخاری امام اعظم رحمۃ اللہ کے زمانے میں موجود تھی ؟ ان فضول مفتریا نہ تحریروں سے آپ کی صرف یہ غرض ہے کہ عوام کے سامنے ہر یک بات میں اس عاجز کی سبکی حاشیه صفحه ۹۹ حاشیه کیونکہ اگر یہ مدونات ان کے رو برو ہوتیں تو انہیں اپنا عقیدہ او مسلمہ قاعدہ ان کتابوں کی مخالف الکتاب احادیث پر (اگر ہوں ) جاری کرنے میں کون مانع ہوسکتا تھا۔ حضرت مرشد نا آپ ہزار پیش بندیاں کیا کریں۔ سوسو با را پر پھیر کر اپنا مطلب بیان کریں۔ دلیر مولوی صاحب کب افتراسے باز آنے والے ہیں ۔ ایڈیٹر۔