ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 99

روحانی خزائن جلد ۴ ۹۹ مباحثہ لدھیانہ اب اس تمام تحقیقات سے ظاہر ہے کہ جو کچھ صحیحین کے مرتبہ قطع اور یقین کی نسبت مبالغہ کیا گیا (۹۷) ہے وہ ہرگز صحیح نہیں اور نہ اس پر اجماع ہے اور نہ ان کی تمام حدیثیں جرح قدح سے خالی سمجھی گئی ہیں اور نہ وہ مخالفت قرآن کی حالت میں بالا جماع واجب العمل خیال کی گئی ہیں بلکہ ان کی صحت پر ہرگز اجماع نہیں ہوا۔ قوله ۔ یہ آپ کی عامیانہ بات ہے کہ پندرہ کروڑ حنفی صحیح بخاری کو نہیں مانتے بلکہ عام حنفی - تو صحیح بخاری کی صحت سے ہرگز انکار نہیں کرتے ۔ اقول ۔ اس کا جواب ہو چکا ہے کہ علماء حنفیہ خبر واحد سے گو وہ بخاری ہو یا مسلم قرآن کریم کے کسی حکم کو ترک نہیں کرتے اور نہ اس پر زیادت کرتے ہیں اور امام شافعی حدیث متواتر کو بھی بمقابلہ آیت کا لعدم سمجھتا ہے اور امام مالک کے نزدیک خبر واحد سے بشرط نہ ملنے آیت کے قیاس مقدم ہے۔ دیکھو صفحه ۱۵۰ کتاب نورالانوار اصول فقہ ۔ اس صورت میں جو کچھ ان اماموں کی نظر میں در صورت قرآن کے مخالف ہونے کے احادیث کی عزت ہو سکتی ہے عیاں ہے خواہ اس قسم کی حدیثیں اب بخاری میں ہوں یا مسلم میں ۔ یہ ظاہر ہے کہ بخاری اور مسلم اکثر مجموعہ احاد کا ہے اور جب احاد کی نسبت امام مالک اور امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کی یہی رائے ہے کہ وہ قرآن کے مخالف ہونے کی حالت میں ہرگز قبول کے لائق نہیں تو اب فرمائیے کیا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ان بزرگوں کے نزدیک وہ حدیثیں بہر حال واجب العمل ہیں؟ اول حنفیوں اور مالکیوں وغیرہ سے ان سب پر عمل کرائے اور پھر یہ بات منہ پر لائے ۔ قوله - آپ اگر اس دعوے میں سچے ہیں تو کم سے کم ایک عالم کا متقدمین یا متاخرین میں سے نام بتادیں جس نے صحیح بخاری یا حیح مسلم کی احادیث کو غیر صح یا موضوع کہا ہو۔ اقول ۔ جن اماموں کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے اگر وہ واقعی اور یقینی طور پر صحیحین کی احادیث کو واجب العمل سمجھتے تو آپ کی طرح ان کا بھی یہی مذہب ہوتا کہ خبر واحد سے قرآن پر زیادت مان لینا یا آیت کو منسوخ سمجھ لینا واجبات سے ہے لیکن میں بیان کر چکا ہوں کہ وہ خبر واحد کو قرآن کی مخالفت کی حالت میں ہرگز قبول نہیں کرتے اس سے ظاہر ہے کہ وہ صرف قرآن کریم کے سہارے سے اور بشرط مطابقت قرآن صحیحین کے احاد کو جو کل سرمایہ صحیحین کا ہے مانتے ہیں اور مخالفت کی حالت میں ہرگز نہیں مانتے ۔ آپ تلویح کی عبارت سن چکے ہیں کہ انــمــا يـرد خـبـر الـواحــد مـن معارضة الكتاب یعنی اگر کوئی حدیث احاد میں سے قرآن کے مخالف پڑے گی تو وہ رد کی جائے گی۔ اب دیکھئے کہ وہ نیا جھگڑا جواب تک آپ نے محض اپنی نافہمی کی وجہ سے کیا ہے کہ قرآن سہو کتابت معلوم ہوتا ہے عالم “ ہونا چاہیے۔ (ناشر) یہ حاشیہ اگلے صفحہ پر درج کیا گیا۔