The Revealed Sermon — Page 32
32 KHUTBAH ILHAMIYYAH - خطبة الهاميه الْجَنَانَ. وَإِنِّي جِئْتُ مِنَ الْحَضْرَةِ الرَّفِيعَةِ الْعَالِيَةِ، و من از درگاه اور میں اور میں بلند و برتر آمده ام بڑی اونچی درگاہ سے آیا ہوں لِيُرِيَ بِيْ رَبِّي مِنْ بَعْضِ صِفَاتِهِ الْجَلَالِيَّةِ وَالْجَمَالِيَّةِ، تا پروردگار من بعض صفات جلالیه خود را بواسطه من بنماید و نیز صفات جمالیه را بنماید تا میرا خدا میرے ذریعہ بعض اپنی جلالی اور جمالی صفتیں دکھلاوے أَعْنِي دَفْعَ الضَّيْرِ ، وَإِفَاضَةَ الْخَيْرِ، فَإِنَّ الزَّمَانَ كَانَ یعنی دفع کردن گزند و رسانیدن خیر چرا که زمانه حاجت می داشت یعنی شر کا دور کرنا اور بھلائی کا پہنچانا کیونکہ زمانہ کو اس بات کی حاجت مُحْتَاجًا إِلَى دَافِعِ شَرِّ طَغَى، وَإِلَى رَافِعِ خَيْرٍ انْحَطَّ که آن بدی را دفع کرده شود که از حد در گذشته است و آن نیکی را بلند کرده آید که فرو رفته تھی کہ اس بدی کو دور کیا جائے جو حد سے بڑھ گئی تھی اور اس نیکی کو بلند کیا جائے جو وَاخْتَفَى فَاقْتَضَتِ الْعِنَايَةُ الْإِلَهِيَّةُ أَنْ يُعْطَى است و پنہاں گردیده پس عنایت الهیه تقاضا فرمود که جاتی رہی تھی۔ اس لئے خدا کی عنایت نے چاہا زمانه را کہ زمان کو I have descended from a lofty and honoured station so that my Lord may demonstrate some of His attributes of glory and beauty through me- that is, to remove evil and spread virtue-for, the age demanded that the evil, which had exceeded all bounds, be eradicated, and the virtue which had vanished, be reestablished. Therefore, the grace of God willed that