The Revealed Sermon — Page 11
THE REVEALED SERMON بَلَغْتَ إِلَى هذا فَقَدْ بَلَّغْتَ جُهْدَكَ إِلَى الْإِنْتِهَاءِ، تا این مقام برسیدی پس کوشش خود را بدرجہ انتہا رسانیدی تو اس مقام تک پہنچ گیا تو تو نے اپنی کوشش کو انتہا تک پہنچا دیا وَقَرْتَ بِمَرْتَبَةِ الْفَنَاءِ، فَحِينَئِذٍ تَصِلُ شَجَرَةُ و بمرتبه فنا فائز شدی۔ پس دریں وقت درخت سلوک تو اور فنا کے مرتبہ تک پہنچ گیا۔ پس اس وقت تیرے سلوک کا درخت سُلُوكِكَ إِلَى أَتَمَّ النَّمَاءِ، وَتَبْلُغُ عُنُقُ رُوحِكَ اپنے کامل نشو و نما تک پہنچ جائے گا در گوالیدن خود بال درجه نشو و نما خواهد رسید که درجه کامله است و گردن روح تو اور تیری روح کی گردن إِلَى لُعَاعِ رَوْضَةِ الْقُدْسِ وَالْكِبْرِيَاءِ، كَالنَّاقَةِ تا سبزه نرم روضه قدس و بزرگی منتهی خواهد شد. تقدس اور بزرگی کے مرغزار کے نرم سبزہ تک پہنچ جائے گی۔ و آن شتر ماده اس اونٹنی کی مانند الْعَنْقَاءِ، إِذَا أَوْصَلَتْ عُنُقَهَا إِلَى الشَّجَرَةِ الْخَضْرَاءِ. را بماند که گردن او دراز باشد و او گردن خود را تا درخت سبز رسانیده باشد جس کی گردن لمبی ہو اور اُس نے اپنی گردن کو ایک سبز درخت تک پہنچ دیا ہو لو If you arrive at this station, you have taken your struggle to its ultimate limit and have achieved the stage of fanā. It is then that the tree of your sojourn [towards God] will thereby grow to its utmost perfection, and the neck of your soul will reach the soft green buds in the meadow of purity and sublimity like a she-camel with a long neck reaching the high branches of a verdant tree. 11