The Revealed Sermon

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 3 of 96

The Revealed Sermon — Page 3

THE REVEALED SERMON بِهِ وَجْهُ الْأَرْضِ مِنَ الدِّمَاءِ، حَتَّى لَوْ جُمِعَتْ دِمَاؤُهَا روئے زمین از خون آل ہا۔ خونوں سے زمین کا منہ چھپ گیا ہے۔ بحدے کہ اگر جمع کرده شوند آن خون با یہاں تک کہ اگر اُن کے خون جمع کئے وَأُرِيْدَ إِجْرَاؤُهَا ، لَجَرَتْ مِنْهَا الْأَنْهَارُ، وَسَالَتِ الْبِحَارُ، و اراده کرده شود که آنها را جاری کنند البته از ان با نهر با جاری شوند و دریاها بروند جائیں اور اُن کے جاری کرنے کا ارادہ کیا جائے تو البتہ ان سے نہریں جاری ہو جائیں اور دریا بہ نکلیں وَفَاضَتِ الْغُدْرُ وَالْأَوْدِيَةُ الْكِبَارُ. وَقَدْ عُدَّ هَذَا و تمام زمین ہائے نشیب و واد یہائے بزرگ از خون رواں گردند و این کار در دین ما اور زمین کے تمام نشیبوں اور وادیوں میں خون رواں ہونے لگے۔ یہ کام اور الْعَمَلُ فِي مِلَّتِنَا مِمَّا يُقَرِّبُ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ، وَحُسِبَ ازاں کار ہا شمار کرده شده است که موجب قرب او سبحان می باشند و بیچو آں ہمارے دین میں ان کاموں میں سے شمار کیا گیا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا موجب ہوتے ہیں اور اُس كَمَطِيئَةٍ تُحَاكِي الْبَرْقَ فِي السَّيْرِ وَلُمَعَانَهِ؛ فَلِأَجْلِ ذَلِكَ مرکبے پنداشته اند که در سیر خود برق را مشابه باشد و بدرخش آن بماند پس از بہر ہمیں سب سمجھے گئے ہیں کہ جو اپنی سیر میں بجلی سواری کی طرح یہ سمجھے سواری ہو جس کو بجنگی جس کو بجلی کی چمک کی سے سے مماثلت حاصل ہو لو that the face of the earth has been covered with their blood; so much so that if all of it were to be amassed and irrigated, streams would flow out and rivers would gush forth with it and all of the plains and valleys of the earth would be inundated with blood. In our religion, this deed is counted among those that are a means of attaining qurb [nearness] to Allah the Most Holy. They have been taken to resemble a mount that is like a flash of lightning in its speed and resplendence. It is for this very reason 3