تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 385
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۵ سورة الماعون <mark>نماز</mark> کو رسم اور عادت کے رنگ میں پڑھنا مفید نہیں بلکہ ایسے <mark>نماز</mark>یوں پر تو خود خدا نے لعنت اور <mark>ویل</mark> بھیجا دور ہے چہ جائیکہ ان کی <mark>نماز</mark> کو قبولیت کا شرف حاصل ہو۔وَيْلٌ لِلْمُصلين خود خدا نے <mark>فرمایا</mark> ہے یہ ان <mark>نماز</mark>یوں کے حق میں ہے جو <mark>نماز</mark> کی حقیقت سے اور <mark>اس</mark> کے مطالب سے بے خبر ہیں۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴ / جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۰) لعنت ہے ان <mark>نماز</mark>یوں پر جو اپنی صلوۃ کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔پس فلاح وہی پاتا ہے اور وہی سچا مومن کہلاتا ہے جو نیکی کو <mark>اس</mark> کے لوازم کے <mark>ساتھ</mark> کرتا ہے۔یہ بات <mark>اس</mark> زمانہ میں بہت کم لوگوں میں (اخ<mark>بار</mark> بدر جلدے نمبر ۲۳ مورخه ۱۱/جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۷) موجود ہے۔ان <mark>نماز</mark>یوں کی تباہی جو <mark>نماز</mark> کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔پس <mark>نماز</mark> کے ماثورہ کلام کا سمجھنا نہایت ضروری ہے صحابہ تو عرب کے رہنے والے تھے ان کو ضرورت نہ تھی مگر ہمارے لئے ضروری ہے کہ <mark>اس</mark>ے سمجھ کر <mark>نماز</mark>وں میں حلاوت پیدا کریں۔اخ<mark>بار</mark> بدر جلدے نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ جون ۱۹۰۸ء صفحه ۷) مفہوم لا إله إلا الله سننے کے <mark>بعد</mark> <mark>نماز</mark> کی <mark>طرف</mark> <mark>توجہ</mark> <mark>کرو</mark> <mark>جس</mark> کی <mark>پابندی</mark> کے <mark>و<mark>اس</mark>طے</mark> <mark>بار</mark> <mark>بار</mark> <mark>قرآن</mark> <mark>شریف</mark> میں <mark>تاکید</mark> کی <mark>گئی</mark> ہے لیکن <mark>ساتھ</mark> ہی <mark>اس</mark> کے یہ <mark>فرمایا</mark> <mark>گیا</mark> ہے کہ <mark>فَوَيْلٌ</mark> <mark>لِلْمُصَدِّينَ</mark> <mark>الَّذِينَ</mark> <mark>هُمْ</mark> <mark>عَنْ</mark> <mark>صَلَاتِهِمْ</mark> <mark>سَاهُون</mark> - <mark>ویل</mark> ہے ان <mark>نماز</mark>یوں کے <mark>و<mark>اس</mark>طے</mark> جو کہ <mark>نماز</mark> کی حقیقت سے بے خبر ہیں سو سمجھنا چاہیے کہ <mark>نماز</mark> ایک سوال ہے جو کہ انسان جدائی کے وقت درد اور حرقت کے <mark>ساتھ</mark> اپنے خدا کے حضور کرتا ہے کہ <mark>اس</mark> کو لقا اور وصال ہو کیونکہ جب تک خدا کسی کو پاک نہ کرے کوئی پاک نہیں ہوسکتا اور جب تک وہ خود وصال عطا نہ کرے کوئی وصال کو حاصل نہیں کر سکتا۔طرح طرح کے طوق اور قسما قسم کے زنجیر انسان کی گردن میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ بہتیرا چاہتا ہے کہ یہ دور ہو جاویں پر وہ دور نہیں ہوتے۔باوجود انسان کی خواہش کے کہ وہ پاک ہو جاوے نفس لوامہ کی لغزشیں ہو ہی جاتی ہیں۔گناہوں سے پاک کرنا خدا کا کام ہے <mark>اس</mark> کے سوائے کوئی طاقت نہیں جو زور کے <mark>ساتھ</mark> تمہیں پاک کر دے۔پاک جذبات کے پیدا کرنے کے <mark>و<mark>اس</mark>طے</mark> خدا تعالیٰ نے <mark>نماز</mark> رکھی ہے۔<mark>نماز</mark> کیا ہے ایک دعا جو درد، سوزش اور حرقت کے <mark>ساتھ</mark> خدا تعالیٰ سے طلب کی جاتی ہے تا کہ یہ بد خیالات اور برے ارادے دفع ہو جاویں اور پاک محبت اور پاک تعلق حاصل ہو جائے اور خدا تعالیٰ کے احکام کے ماتحت چلنا نصیب ہو۔صلوٰۃ کا لفظ <mark>اس</mark> بات پر دلالت کرتا ہے کہ دعا صرف زبان سے نہیں بلکہ <mark>اس</mark> کے <mark>ساتھ</mark> سوزش اور جلن اور حرقت کا ہونا بھی ضروری ہے۔اخ<mark>بار</mark> بدر جلد ۶ نمبر ۱، ۲ مورخہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۱۲)