تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 384 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 384

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۴ سورة الماعون <mark>جس</mark> <mark>نماز</mark> میں دل کہیں ہے اور خیال کسی <mark>طرف</mark> ہے اور منہ سے کچھ نکلتا ہے وہ ایک لعنت ہے جو آدمی کے منہ پر واپس ماری جاتی ہے اور قبول نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَيْلٌ لِلْمُصَلِينَ - <mark>الَّذِينَ</mark> <mark>هُمْ</mark> <mark>عَنْ</mark> صَلاتِهِمْ <mark>سَاهُون</mark>َ - لعنت ہے ان پر جو اپنی <mark>نماز</mark> کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔<mark>نماز</mark> وہی اصلی ہے <mark>جس</mark> میں مزا آجاوے۔ایسی ہی <mark>نماز</mark> کے ذریعہ سے گناہ سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور یہی وہ <mark>نماز</mark> ہے <mark>جس</mark> کی تعریف میں کہا <mark>گیا</mark> ہے کہ <mark>نماز</mark> مومن کا معراج ہے۔<mark>نماز</mark> مومن کے <mark>و<mark>اس</mark>طے</mark> ترقی کا ذریعہ ہے۔( بدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخه ۲۶ ؍جولائی ۱۹۰۶ء صفحه ۳) وہ لوگ جو <mark>نماز</mark>وں کی حقیقت سے ہی بے خبر ہوتے ہیں ان کی <mark>نماز</mark>یں نری ٹکریں ہوتی ہیں۔ایسے لوگ ایک سجدہ اگر خدا کو کرتے ہیں تو دوسرا دنیا کو کرتے ہیں۔جب تک انسان خدا کے لئے تکالیف اور مصائب کو برداشت نہیں کرتا تب تک مقبول حضرت احدیت نہیں ہوتا۔احکام جلد نمبر ۳۶ مورخہ ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۷ ، صفحہ ۱۱) <mark>نماز</mark> ایسی چیز ہے کہ <mark>اس</mark> سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی لیکن اکثر لوگ جو <mark>نماز</mark> پڑھتے ہیں تو وہ <mark>نماز</mark> ان پر لعنت بھیجتی ہے جیسے فرما یا <mark>فَوَيْلٌ</mark> لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ <mark>هُمْ</mark> <mark>عَنْ</mark> <mark>صَلَاتِهِمْ</mark> <mark>سَاهُون</mark>َ یعنی لعنت ہے ان <mark>نماز</mark>یوں پر جو <mark>نماز</mark> کی حقیقت سے ہی بے خبر ہوتے ہیں۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳ مورخه ۱۰/جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۴) خدا کا یہی منشاء ہے کہ لفظی اور زبانی مسلمانوں کو حقیقی مسلمان بنایا جاوے۔یہودی کیا تو ریت پر ایمان نہیں لاتے تھے؟ قربانیاں نہ کرتے تھے ؟ مگر خدا نے ان پر لعنت بھیجی اور کہا کہ تم مومن نہیں ہو۔بلکہ بعض <mark>نماز</mark>یوں کی <mark>نماز</mark>وں پر بھی لعنت بھیجی ہے۔جہاں <mark>فرمایا</mark> ہے کہ <mark>ویل</mark> لِلْمُصَلِّينَ <mark>الَّذِينَ</mark> <mark>هُمْ</mark> <mark>عَنْ</mark> <mark>صَلَاتِهِمْ</mark> <mark>سَاهُون</mark>َ الع یعنی لعنت ہے ایسے <mark>نماز</mark>یوں پر جو <mark>نماز</mark> کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔صلوۃ اصل میں آگ میں پڑنے اور محبت الہی اور خوف الہی کی آگ میں پڑ کر اپنے آپ سے جل جانے اور م<mark>اس</mark>وی اللہ کو جلا دینے کا نام ہے اور <mark>اس</mark> حالت کا نام ہے کہ صرف خدا ہی خدا <mark>اس</mark> کی نظر میں رہ جاوے اور انسان <mark>اس</mark> حالت تک ترقی کر جاوے کہ خدا کے بلانے سے بولے اور خدا کے چلانے سے چلے۔<mark>اس</mark> کے کل حرکات اور سکنات <mark>اس</mark> کا فعل اور ترک فعل سب اللہ ہی کی مرضی کے مطابق ہو جاوے خودی دور ہو جاوے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۹ مورخه ۱۸ جون ۱۹۰۸ء صفحه ۷ )