تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 329
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۹ سورة الزلزال کی طرح اکٹھا کر دیں گے اور دنیا پرستوں کا بھی کھلا کھلا ایک گروہ نظر آئے گا تا ہر ایک گروہ اپنی کوششوں کے ثمرات کو دیکھ لیویں تب آخر ہو جائے گی یہ آخری لیلتہ القدر کا نشان ہے جس کی بنا ابھی سے ڈالی گئی ہے جس کی تکمیل کے لئے سب سے پہلے خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو بھیجا ہے اور مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ انت أَشَدُّ مُنَاسَبَةً بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَاشْبَهُ النَّاسِ بِهِ خُلُقًا وَ خَلْقًا وَ زَمَانًا مگر یہ تاثیرات اس لیلۃ القدر کی اب بعد اس کے کم نہیں ہوں گی بلکہ بالاتصال کام کرتی رہیں گی جب تک وہ سب کچھ پورا نہ ہو لے جو خدائے تعالیٰ آسمان پر مقرر کر چکا ہے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے اُترنے کے لئے جو زمانہ انجیل میں بیان فرمایا ہے یعنی یہ کہ وہ حضرت نوح کے زمانہ کی طرح امن اور آرام کا زمانہ ہو گا در حقیقت اسی مضمون پر سورۃ الزلزال جس کی تفسیر ابھی کی گئی ہے دلالت التزامی کے طور پر شہادت دے رہی ہے کیونکہ علوم وفنون کے پھیلنے اور انسانی عقول کی ترقیات کا زمانہ در حقیقت ایسا ہی چاہیئے جس میں غایت درجہ کا امن و آرام ہو کیونکہ لڑائیوں اور فسادوں اور خوف جان اور خلاف امن زمانہ میں ہرگز ممکن نہیں کہ لوگ عقلی و عملی امور میں ترقیات کر سکیں یہ باتیں تو کامل طور پر بھی سوجھتی ہیں کہ جب کامل طور پر امن حاصل ہو۔ ہمارے علماء نے جو ظاہری طور پر اس سورۃ الزلزال کی یہ تفسیر کی ہے کہ در حقیقت زمین کو آخری دنوں میں سخت زلزلہ آئے گا اور وہ ایسا زلزلہ ہوگا کہ تمام زمین اُس سے زیروز بر ہو جائے گی اور جو زمین کے اندر چیزیں ہیں وہ سب باہر آجائیں گی اور انسان یعنی کافر لوگ زمین کو پوچھیں گے کہ تجھے کیا ہوا تب اُس روز زمین باتیں کرے گی اور اپنا حال بتائے گی۔ یہ سراسر غلط تفسیر ہے کہ جو قرآن شریف کے سیاق و سباق سے مخالف ہے۔ اگر قرآن شریف کے اس مقام پر بنظر غور تدبر کرو تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں سورتیں یعنی سورة البينة اور سورۃ الزلزال ، سورة ليلة القدر کے متعلق ہیں اور آخری زمانہ تک اس کا کل حال بتلا رہی ہیں ماسوا اس کے ہر ایک عقل سلیم سوچ سکتی ہے کہ ایسے بڑے زلزلہ کے وقت میں کہ جب ساری زمین تہ و بالا ہو جائے گی ایسے کافر کہاں زندہ رہیں گے۔ جو زمین سے اُس کے حالات استفسار کریں گے کیا ممکن ہے کہ زمین تو ساری زیروز بر ہو جائے یہاں تک کہ اوپر کا طبقہ اندر اور اندر کا طبقہ باہر آ جائے اور پھر لوگ زندہ بچ رہیں بلکہ اس جگہ زمین سے مراد زمین کے رہنے والے ہیں اور یہ عام محاورہ قرآن شریف کا ہے کہ زمین کے لفظ سے انسانوں کے دل اور ان کے باطنی قومی مراد ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ ایک جگہ فرماتا ہے اِعْلَمُوا