تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 328

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۸ سورة الزلزال کے ساتھ حرکت میں آجائیں گے اور زمین اپنے تمام بوجھوں کو باہر نکال دے گی یعنی انسانوں کے دل اپنی تمام استعدادات مخفیہ کو بمنصہ ظہور لائیں گے اور جو کچھ اُن کے اندر علوم وفنون کا ذخیرہ ہے یا جو کچھ عمدہ عمدہ دلی و دماغی طاقتیں ولیاقتیں اُن میں مخفی ہیں سب کی سب ظاہر ہو جائیں گی اور انسانی قوتوں کا آخری نچوڑ نکل آئے گا اور جو جو ملکات انسان کے اندر ہیں یا جو جو جذبات اس کی فطرت میں مودع ہیں وہ تمام مکمن قوت سے حین فعل میں آجائیں گے اور انسانی حواس کی ہر یک نوع کی تیزیاں اور بشری عقل کی ہر قسم کی باریک بینیاں نمودار ہو جائیں گی اور تمام دفائن و خزائن علوم مخفیہ و فنون مستورہ کے جو چھپے ہوئے چلے آتے تھے اُن سب پر انسان فتحیاب ہو جائے گا اور اپنی فکری اور عقلی تدبیروں کو ہر یک باب میں انتہا تک پہنچا دے گا اور انسان کی تمام قوتیں جو نشاء انسانی میں محمر ہیں صد با طرح کی تحریکوں کی وجہ سے حرکت میں آجائیں گی اور فرشتے جو اس لیلۃ القدر میں مرد صلح کے ساتھ آسمان سے اُترے ہوں گے ہر یک شخص پر اس کی استعداد کے موافق خارق عادت اثر ڈالیں گے یعنی نیک لوگ اپنے نیک خیال میں ترقی کریں گے اور جن کی نگاہیں دنیا تک محدود ہیں وہ ان فرشتوں کی تحریک سے دنیوی عقلوں اور معاشرت کی تدبیروں میں وہ ید بیضا دکھلائیں گے کہ ایک مرد عارف متحیر ہو کر اپنے دل میں کہے گا کہ یہ عقلی اور فکری طاقتیں ان لوگوں کو کہاں سے ملیں ؟ تب اُس روز ہر یک استعداد انسانی بزبان حال باتیں کرے گی کہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقتیں میری طرف سے نہیں بلکہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک وحی ہے جو ہر یک استعداد پر بحسب اُس کی حالت کے اُتر رہی ہے یعنی صاف نظر آئے گا کہ جو کچھ انسانوں کے دل و دماغ کام کر رہے ہیں یہ ان کی طرف سے نہیں بلکہ ایک غیبی تحریک ہے کہ اُن سے یہ کام کرا رہی ہے سو اس دن ہر یک قسم کی قوتیں جوش میں دکھائی دیں گی دنیا پرستوں کی قوتیں فرشتوں کی تحریک سے جوش میں آکر اگرچہ بباعث نقصان استعداد کے سچائی کی طرف رخ نہیں کریں گی لیکن ایک قسم کا اُبال ان میں پیدا ہو کر اور انجماد اور افسردگی دور ہو کر اپنی معاشرت کے طریقوں میں عجیب قسم کی تدبیریں اور صنعتیں اور گلیں ایجاد کر لیں گے اور نیکوں کی قوتوں میں خارق عادت طور پر الہامات اور مکاشفات کا چشمہ صاف صاف طور پر بہتا نظر آئے گا اور یہ بات شاذ و نادر ہوگی کہ مومن کی خواب جھوٹی نکلے تب انسانی قومی کے ظہور و بروز کا دائرہ پورا ہو جائے گا اور جو کچھ انسان کے نوع میں پوشیدہ طور پر ودیعت رکھا گیا تھا وہ سب خارج میں جلوہ گر ہو جائے گا تب خدائے تعالیٰ کے فرشتے ان تمام راستبازوں کو جوزمین کی چاروں طرفوں میں پوشیدہ طور پر زندگی بسر کرتے تھے ایک گروہ