تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 303

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ سورة القدر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة القدر بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۔ إِنَّا أَنْزَلْتُهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلبِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرِ سَلَمُ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ یہ لیلۃ القدرا اگر چہ اپنے مشہور معنوں کے رو سے ایک بزرگ رات ہے لیکن قرآنی اشارات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی ظلمانی حالت بھی اپنی پوشیدہ خوبیوں میں لیلتہ القدر کا ہی حکم رکھتی ہے اور اس ظلمانی حالت کے دنوں میں صدق اور صبر اور زہد اور عبادت خدا کے نزدیک بڑا قدر رکھتا ہے اور وہی ظلمانی حالت تھی کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت تک اپنے کمال کو پہنچ کر ایک عظیم الشان نور کے نزول کو چاہتی تھی اور اسی ظلمانی حالت کو دیکھ کر اور ظلمت زدہ بندوں پر رحم کر کے صفت رحمانیت نے جوش مارا اور آسمانی برکتیں زمین کی طرف متوجہ ہوئیں ۔ سو وہ ظلمانی حالت دنیا کے لئے مبارک ہو گئی اور دنیا نے اس سے ایک عظیم الشان رحمت کا حصہ پایا کہ ایک کامل انسان اور سید الرسل کہ جس سا کوئی پیدا نہ ہوا اور نہ ہوگا دنیا کی ہدایت کے لئے آیا اور دنیا کے لئے اس روشن کتاب کو لایا جس کی نظیر کسی آنکھ نے نہیں دیکھی پس یہ خدا کی کمال رحمانیت کی ایک بزرگ تجلی تھی کہ جو اس نے ظلمت اور تاریکی کے وقت ایسا عظیم الشان نور نازل