تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 302
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۲ سورة العلق دیا تھا جبکہ ایک شخص ایک ایسے وقت نماز ادا کر رہا تھا جس وقت میں نماز جائز نہیں اس کی شکایت حضرت علیؓ کے پاس ہوئی تو آپ نے اسے جواب دیا کہ میں اس آیت کا مصداق نہیں بننا چاہتا آرَعَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّی یعنی تو نے دیکھا اس کو جو ایک نماز پڑھتے بندے کو منع کرتا ہے۔ نماز جورہ جاوے اس کا تدارک نہیں ہو سکتا ہاں روزہ کا ہو سکتا ہے۔ اور جو شخص عمداً سال بھر اس لئے نماز کو ترک کرتا ہے کہ قضاء عمری والے دن ادا کرلوں گا وہ تو گنہگار ہے اور جو شخص نادم ہو کر تو بہ کرتا ہے اور اس نیت سے پڑھتا ہے کہ آئندہ نماز ترک نہ کروں گا تو اس کے لئے حرج نہیں۔ ہم تو اس معاملہ میں حضرت علی ہی کا جواب دیتے ہیں۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۱۴) (قضاء عمری پر سوال ہوا کہ جمعۃ الوداع کے دن لوگ تمام نمازیں پڑھتے ہیں کہ گذشتہ نمازیں جو ادا نہیں کیں ان کی تلافی ہو جاوے اس کا کچھ وجود ہے یا کہ نہیں؟ فرمایا ) رض ایک فضول امر ہے۔ مگر ایک دفعہ ایک شخص بے وقت نماز پڑھ رہا تھا کہ کسی شخص نے حضرت علی کو کہا کہ آپ خلیفہ وقت ہیں اسے منع کیوں نہیں کرتے۔ فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس آیت کے نیچے ملزم نہ بنایا جاؤں۔ ارَعَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّی ۔ ہاں اگر کسی شخص نے عمداً نماز اس لئے ترک کی ہے کہ قضاء عمری کے دن پڑھ لوں گا تو اس نے ناجائز کیا ہے اور اگر ندامت کے طور پر تدارک مافات کرتا ہے تو پڑھنے دو کیوں منع کرتے ہو آخر دعا ہی کرتا ہے ہاں اس میں پست ہمتی ضرور ہے۔ پھر دیکھو منع کرنے سے کہیں تم بھی اس آیت کے نیچے نہ آجاؤ۔ الحکم جلدی نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۲) ایک شخص نے دریافت کیا کہ آج کل طاعون کی کثرت کے وقت اکثر سکھوں اور ہندوؤں کے گاؤں میں یہ علاج کیا جاتا ہے کہ اذانِ نماز بڑے زور اور کثرت سے ہر ایک گھر میں دلائی جاتی ہے۔ یہ فعل کیسا ہے؟ فرمایا ) اذان سراسر اللہ تعالیٰ کا پاک نام ہے۔ ہمیں تو علی کا جواب یاد آتا ہے کہ آپ نے کہا تھا کہ میں اس ارَعَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّی کا مصداق ہونا نہیں چاہتا۔ ہمارے نزدیک بانگ میں بڑی شوکت ہے اور اس کے دلوانے میں حرج نہیں ۔ ( حدیث میں آیا ہے کہ اس سے شیطان بھاگتا ہے )۔ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحه ۱۱۶)