تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 248
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۸ سورة الفجر ہیں ۔ یہ لوگ بھی سعادت سے حصہ رکھتے ہیں ۔ بڑا بد بخت وہ ہے جو بدی کو محسوس ہی نہیں کرتا یعنی جو امارہ کے ماتحت ہیں اور بڑا ہی سعید اور بامراد وہ ہے جو نفس مطمئنہ کی حالت میں ہے۔ - نفس مطمئنہ ہی کو خدا نے فرمایا يَا يَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً يعنى اے وہ نفس جو اطمینان یافتہ ہے اس حالت میں شیطان کے ساتھ جو جنگ ہوتی ہے اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور خطاب کے لائق تو مطمئنہ ہی ٹھہرایا ہے اور اس آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مطمئنہ کی حالت میں مکالمہ الہی کے لائق ہو جاتا ہے۔ خدا کی طرف واپس آ کے معنے یہی نہیں کہ مرجا بلکہ توامہ اور اتارہ کی حالت میں جو خدا تعالیٰ سے ایک بعد ہوتا ہے مطمئنہ کی حالت میں وہ مہجوری نہیں رہتی اور کوئی غبار باقی نہ رہ کر غیب کی آواز اس کو بلاتی ہے۔ تو مجھ سے راضی اور میں تجھ سے راضی ۔ یہ رضا کا انتہائی مقام ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب میرے بندوں میں داخل ہو جا۔ اللہ تعالیٰ کے بندے دنیا ہی پر ہوتے ہیں مگر دنیا ان کو نہیں پہنچانتی ۔ دنیا نے آسمانی بندوں سے دوستی نہیں کی وہ ان سے ہنسی کرتی ہے ۔ وہ الگ ہی ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی رداء کے نیچے ہوتے ہیں ۔ غرض جب ایسی حالت اطمینان میں پہنچتا ہے تو الہی اکسیر سے تانبا سونا ہو جاتا ہے ۔ وَادْخُلِی جَنَّتِی اور تو میرے بہشت میں داخل ہو جا۔ بہشت ایک ہی چیز نہیں بلکہ فرمایا وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتْنِ (الرحمن : ۴۷) خدا سے ڈرنے والے کے لئے دو بہشت الحکم جلدے نمبر ۸ مورخہ ۲۸ رفروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۶ ) ہیں ۔ بڑی بشارت مومن کو ہے ۔ يَآيَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً اے نفس جو کہ خدا سے آرام یافتہ ہے تو اپنے رب کی طرف راضی خوشی واپس آ۔ اس خوشی میں ایک کافر ہر گز شریک نہیں ہے۔ رَاضِيَةً کے معنے یہ ہیں کہ وہ اپنی مرادات کوئی نہیں رکھتا کیونکہ اگر وہ دنیا سے خلاف مرادات جاوے تو پھر راضی تو نہ گیا اسی لئے اس کی تمام مراد خدا ہی خدا ہوتا ہے اس کے مصداق صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں کہ آپ کو یہ بشارت ملی - إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ ( النصر (۲) اور الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائدة : ۴) بلکہ مومن کی خلاف مرضی تو اس کی نزع ( جان کنی ) بھی نہیں ہوا کرتی ۔ ایک شخص کا قصہ لکھا ہے کہ وہ دعا کیا کرتا تھا کہ میں طوس میں مروں لیکن ایک دفعہ وہ ایک اور مقام پر تھا کہ سخت بیمار ہوا اور کوئی امید زیست کی نہ رہی تو اس نے وصیت کی کہ اگر میں یہاں مر جاؤں تو مجھے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کرنا۔ اسی وقت سے وہ رو بصحت ہونا شروع ہو گیا حتی کہ بالکل تندرست ہو گیا۔ لوگوں نے اس کی وصیت کی وجہ پوچھی تو کہا کہ