تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 247

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۷ سورة الفجر کہ اس کا باعث صرف چند عارضی باتیں ہوتی ہیں جن کے دور ہوتے ہی وہ محبت سرد ہو کر رنج اور غم کا باعث ہو جاتی ہے مگر ذاتی محبت سچی راحت پیدا کرتی ہے۔ چونکہ انسان فطرتاً خدا ہی کے لئے پیدا ہوا ہے جیسا کہ فرما یا مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات : ۵۷) اس لئے خدائے تعالیٰ نے اس کی فطرت ہی میں اپنے لئے کچھ نہ کچھ رکھا ہوا ہے اور اپنے پوشیدہ اور مخفی در مخفی اسباب سے اسے اپنے لئے بنایا ہوا ہے۔ پس جب انسان جھوٹی اور نمائشی ہاں عارضی اور رنج پر ختم ہونے والی محبتوں سے الگ ہو جاتا ہے۔ پھر وہ خدا ہی کے لئے ہو جاتا ہے اور طبعاً کوئی بعد نہیں رہتا اور خدا کی طرف دوڑا چلا آتا ہے ۔ پس اس آیت يايتها النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ خدائے تعالیٰ کا آواز دینا یہی ہے کہ درمیانی حجاب اُٹھ گیا اور بعد نہیں رہا۔ یہ متقی کا انتہائی درجہ ہوتا ہے جب وہ اطمینان اور راحت پاتا ہے۔ دوسرے مقام پر قرآن شریف نے اس اطمینان کا نام فلاح اور استقامت بھی رکھا ہے اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة : ٦ ) میں اسی استقامت یا اطمینان یا فلاح کی طرف لطیف اشارہ ہے اور خود مستقیم کا لفظ بتلا رہا ہے۔ ( رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ ء صفحه ۱۳۴ تا ۱۳۷ ) اگر مسیح کے صعود الی السماء سے یہ غرض تھی کہ وہ اس لعنت سے بچ رہیں تو اس رفع کے لئے ضروری ہے کہ پہلے موت ہو کیونکہ یہ رفع وہ ہے جو قرب الہی کا مفہوم ہے اور بعد موت ملتا ہے اسی لئے اِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى (ال عمران : ۵۶) کہا گیا اور یہ وہی رفع ہے جو ارجعی إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً میں خدا نے بیان فرمایا ہے اور مُفَتَّحَةً لَّهُمُ الْأَبْوَابُ (ص : ۵۱) سے پایا جاتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۱ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۲ء صفحه ۵) تو میری جنت میں داخل ہو جا اور اسی وقت ہو جا اور مومن کا جنت خود خدا ہے یعنی جب وہ خدا کے بندوں میں داخل ہوا تو خدا تو انہیں میں ہے اور وہ اس کے عباد میں آگیا تو اب اس حالت میں وہ سجن کہاں رہا ؟ ایک مرتبہ ہوتا ہے کہ اس وقت تک وہ تکالیف میں ہوتا ہے جیسے جب کنواں کھودا جاوے تو اس سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ پانی نکل آوے۔ مطمئنہ ہونا اصل میں پانی نکالنا ہے جب پانی نکل آیا اب کھودنے کی ضرورت نہیں ہے۔ البدر جلد اول نمبرے مورخہ ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۵۱) - اصل مدعا تو یہ ہونا چاہیے کہ انسان نفس مطمئنہ حاصل کرے ۔ نفس تین قسم کے ہیں۔ امارہ، لوامہ ، مطمئنہ ۔ بہت بڑا حصہ دنیا کا نفس امارہ کے نیچے ہے اور بعض جن پر خدا کا فضل ہوا ہے وہ لوامہ کے نیچے