تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 211
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۱ سورة الطارق گرنے والی دیوار کے نیچے کھڑا ہے تو یہ تو نہیں کہ فرشتہ اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر اُس کو دور لے جائے گا بلکہ اگر اُس شخص کا اُس دیوار سے بچنا مقدر ہے تو فرشتہ اس کے دل میں الہام کر دے گا کہ یہاں سے جلد کھسکنا چاہیئے۔ لیکن ستاروں اور عناصر وغیرہ کی حفاظت جسمانی ہے۔ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۹۹ نوٹ ) إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ الله تعالیٰ نے اپنی محکم کتاب میں فرمایا ہے کہ ان الْمُحْكَمِ إِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ، كُلُّ نَفْسٍ لَمَّا عَلَيْهَا حَافِظ یعنی خدا کی طرف سے ہر فَلَمَّا كَانَتِ الْمَلَائِكَةُ حَافِظِينَ لِنُفُوسِ نفس پر ایک محافظ مقرر ہے اور جب فرشتے ستاروں ، النُّجُومِ وَالشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَالْأَفْلَاكِ سورج، چاند ، افلاک اور عرش اور جو کچھ زمین میں ہے وَالْعَرْشِ وَكُلِّ مَا فِي الْأَرْضِ، لَزِمَ أَنْ لَّا ان کے محافظ ہیں تو یہ بات لازم آئی کہ وہ جن چیزوں کی يُفَارِقُوا مَا يَحْفَظُوْنَهُ طُرْفَةَ عَيْنٍ، فَانْظُرُ حفاظت کر رہے ہیں ان سے وہ ایک لمحہ کے لئے بھی كَيْفَ ظَهَرَ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ الْحَقُّ، وَبَطَلَ مَا علیحدہ نہ ہوں ۔ پس دیکھو کہ کس طرح اس آیت سے حق زَعَمَ الزَّاعِمُونَ مِنْ نُزُولِهِمْ وَصُعُودِهِمْ واضح ہو گیا ہے اور ان لوگوں کا خیال جو فرشتوں کے بِأَجْسَامِهِمُ الْأَصْلِيَّةِ فَلَا مَفَرَّ إِلى سَبِيلٍ نزول اور صعود کو ان کے اصلی وجود کے ساتھ قرار دیتے مِنْ قُبُولِ دَقِيقَةِ الْمَعْرِفَةِ الَّتِي كَتَبْنَاهَا ہیں غلط ثابت ہو گیا۔ پس اس دقیقہ معرفت کو قبول کرنے أَعْنِي أَنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا يَنْزِلُونَ بِنُزُولٍ کے بغیر کوئی چارہ نہیں جسے ہم نے لکھا ہے یعنی یہ کہ ملائکہ حَقِيقِي، وَلَا يَرَوْنَ وَعَشَاءَ السَّفَرِ، بَلْ إِذَا حقیقی طور پر زمین پر نہیں اترتے اور نہ وہ سفر کی مشقت کو أَرَادَ اللهُ إِرَاءَتِهِمْ فِي النَّاسُوتِ فَيَخْلُقُ برداشت کرتے ہیں بلکہ جب اللہ تعالیٰ عالم انسانیت لَهُمْ وُجُودًا تَمْثِيْلِيًّا فِي الْأَرْضِ فَتَرَاهُمُ میں ان کو دکھانے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کے لئے ایک الْعَيْنُ الَّتِي تَسْرَحُ فِي رَوْضَاتِ الْكَشْفِ تمثیلی وجود زمین میں پیدا کر دیتا ہے تب ان کو وہ آنکھ وَلَوْ لَمْ يَكُن كَذلِكَ لَلَزِمَ أَنْ يَرَى ہی دیکھ پاتی ہے جو کشف کے باغات میں پھرتی رہتی الْمَلَائِكَةَ النَّاسُ كُلُّهُمْ عِنْدَ نُزُوْلِهِمْ إِلَى ہے ۔ اور اگر ایسا نہ ہوتا تو لازم آتا کہ تمام لوگ ملائکہ کو الْأَرْضِ لِقَبْضِ الْأَرْوَاحِ وَغَيْرِهَا مِنَ ان کے نزول کے وقت دیکھتے جب وہ زمین پر قبض الْمُهِمَّاتِ، وَلَلَزِمَ أَنْ يَرَى مَلَكَ الْمَوْتِ ارواح کے لئے اور دوسری مہمات کو سر کرنے کے لئے