تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 179
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۹ سورة التكوير تھا کہ وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِلَتُ اب یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ میں بڑی سرگرمی سے ریل طیار ہو رہی ہے اور اونٹوں کے الوداع کا وقت آگیا۔ اور پھر اس نشان سے کچھ فائدہ نہیں اُٹھاتے۔ اربعین، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۹۹،۳۹۸) آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ان دنوں میں اونٹ بیکار ہو جائیں گے اور یہ ریل کی طرف اشارہ تھا جیسا کہ ایام اسح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۴۰۰) قرآن شریف میں بھی ہے وَ إِذَا الْعِشَارُ عُطِلَتُ ۔ میں وہی ہوں جس کے وقت میں اونٹ بیکار ہو گئے اور پیشگوئی آیت کریمہ وَ إِذَا الْعِشَارُ عُطِلَت پوری ہوئی اور پیشگوئی حدیث وَلَيتُرَ كَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا نے اپنی پوری پوری چمک دکھلا دی یہاں تک کہ عرب اور عجم کے اڈیٹران اخبار اور جرائد والے بھی اپنے پرچوں میں بول اُٹھے کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل طیار ہو رہی ہے یہی اس پیشگوئی کا ظہور ہے جو قرآن اور حدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی جو مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔ اعجاز احمدی، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه (۱۰۸) قرآن اور حدیث دونوں بتلا رہے ہیں کہ مسیح کے زمانہ میں اونٹ بیکار ہو جائیں گے یعنی ان کے قائم مقام کوئی اور سواری پیدا ہو جائے گی۔ یہ حدیث مسلم میں موجود ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں وَلَيُتركن الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا اور قرآن کے الفاظ یہ ہیں وَ إِذَا الْعِشَارُ عُطلت ۔ شیعوں کی کتابوں میں بھی یہ حدیث موجود ہے مگر کیا کسی نے اس نشان کی کچھ پروا کی۔ ابھی عنقریب اس پیشگوئی کا دلکش نظارہ مکہ اور مدینہ کے درمیان نمایاں ہونے والا ہے جبکہ اونٹوں کی ایک لمبی قطار کی جگہ ریل کی گاڑیاں نظر آئیں گی اور تیرہ سو برس کی سواریوں میں انقلاب ہو کر ایک نئی سواری پیدا ہو جائے گی اس وقت ان مسافروں کے سر پر جب یہ آیت وَ إِذَا الْعِشَارُ عُقِلَتْ اور یہ حدیث وَلَيْتُرَ كَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا پڑھی جائے گی تو کیسے انشراح صدر سے ان کو ماننا پڑے گا کہ یہ در حقیقت آج کے دن کے لئے ایک نشان تھا اور ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی جو ہمارے نبی کریم کے مبارک لبوں سے نکلی اور آج پوری ہوئی ۔ ( نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۰۶) میں وہ شخص ہوں جس کے زمانہ میں اس ملک میں ریل جاری ہو کر اونٹ بیکار کئے گئے اور عنقریب وہ وقت آتا ہے بلکہ بہت نزدیک ہے جبکہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ریل جاری ہو کر وہ تمام اونٹ بیکار ہو جائیں گے جو تیرہ سو برس سے یہ سفر مبارک کرتے تھے تب اس وقت ان اونٹوں کی نسبت وہ حدیث جو صحیح مسلم میں