تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 178
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۸ سورة التكوير چاہو تو ریل میں یوں سفر کر سکتے ہو جیسے گھر کے ایک بستان سرائے میں ۔ پس کیا زمین پر ایک انقلاب نہیں آیا۔ پس جبکہ زمین میں ایک اعجوبہ نما انقلاب پیدا ہو گیا اس لئے خدائے قادر چاہتا ہے کہ آسمان میں بھی ایک اعجوبہ نما انقلاب پیدا ہو جائے اور یہ دونوں مسیح کے زمانہ کی نشانیاں ہیں ۔ (گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۱۶، ۱۷) چونکہ ریل کا وجود اور اونٹوں کا بیکار ہونا مسیح موعود کے زمانہ کی نشانی ہے اور مسیح کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ بہت سیاحت کرنے والا ۔ تو گویا خدا نے مسیح کے لئے اور اس کے نام کے معنے تحقق کرنے کے لئے اور نیز اس کی جماعت کے لئے جو اسی کے حکم میں ہیں ریل کو ایک سیاحت کا وسیلہ پیدا کیا ہے تا وہ سیاحتیں جو پہلے مسیح نے ایک سو بیس برس تک بصد محنت پوری کی تھیں اس مسیح کے لئے صرف چند ماہ میں وہ تمام سیر و سیاحت میسر آ جائے اور یہ یقینی امر ہے کہ جیسے اس زمانہ کا ایک مامور من اللہ ریل کی سواری کے ذریعہ سے خوشی اور آرام سے ایک بڑے حصہ دنیا کا چکر لگا کر اور سیاحت کر کے اپنے وطن میں آسکتا ہے۔ یہ سامان پہلے نبیوں کے لئے میسر نہیں تھا اس لئے مسیح کا مفہوم جیسے اس زمانہ میں جلد پورا ہو سکتا ہے کسی دوسرے زمانہ میں اس کی نظیر نہیں۔ تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۱۹۵ حاشیه ) قرآن شریف میں اور بہت سی پیشنگوئیاں ہیں جو اس ہمارے زمانہ میں پوری ہوگئی ہیں جیسے۔۔۔۔ اونٹوں کے بیکار ہونے اور مکہ اور مدینہ میں ریل جاری ہونے کی پیشگوئی جو آیت وَ إِذَا الْعِشَارُ عُطِلَتُ سے صاف طور پر سمجھی جاتی ہے۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۲۳۰ ، ۲۳۱) ابھی مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے لوگوں کے لئے ایک بھاری نشان ظاہر ہوا ہے اور وہ یہ کہ تیرہ سو برس سے مکہ سے مدینہ میں جانے کے لئے اونٹوں کی سواری چلی آتی تھی اور ہر ایک سال کئی لاکھ اونٹ مکہ سے مدینہ کو اور مدینہ سے مکہ کو جاتا تھا اور ان اونٹوں کے متعلق قرآن اور حدیث میں بالاتفاق یہ پیشگوئی تھی کہ ایک وہ زمانہ آتا ہے کہ یہ اونٹ بیکار کئے جائیں گے اور کوئی ان پر سوار نہیں ہوگا چنانچہ آیت وَ إِذَا الْعِشَارُ عُطِلَتُ اور حدیث يُتْرَكُ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا اس کی گواہ ہے۔ پس یہ کس قدر بھاری پیشگوئی ہے جو مسیح کے زمانہ کے لئے اور مسیح موعود کے ظہور کے لئے بطور علامت تھی جو ریل کی طیاری سے پوری ہوگئی ۔ اربعین ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۷۵ حاشیه ) یہ بھی احادیث میں آیا تھا کہ مسیح کے وقت میں اونٹ ترک کئے جائیں گے اور قرآن شریف میں بھی وارد