تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 61

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ الخ - ٦١ سورة الزمر الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۰ را پریل ۱۹۰۸ ء صفحه ۲) پادری عیسی کے خدا ہونے کی دلیل بیان کرتے ہیں کہ وہ مردے زندہ کرتا تھا حالانکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ ۔ اب خدا کے کلام میں تناقض نہیں کہ ایک آیت میں کہے مردے دوبارہ دنیا میں نہیں آتے اور دوسری میں کہے کہ مردہ زندہ ہوتے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اُس کے ہاتھ پر مردے زندہ ہوتے ہیں لِما يُحْيِيكُمْ (الانفال: ۲۵) اور سب کو معلوم ہے کہ اس سے مرادر و حانی مردوں کا زندہ ہونا ہے۔ ( بدر جلدے نمبر ۲۰،۱۹ مورخہ ۲۴ رمئی ۱۹۰۸ء صفحه ۵) قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ۔ ان کو کہہ دے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر اسراف کیا (یعنی ارتکاب کبائر کیا ) تم خدا کی رحمت سے نومید مت ہو وہ تمہارے سب گناہ بخش دے گا ۔ اب ظاہر ہے کہ بنی آدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تو بندے نہیں ہیں بلکہ سب نبی و غیر نبی خدائے تعالیٰ کے بندے ہیں لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مولیٰ کریم سے قرب اتم یعنی تیسرے درجہ کا قرب حاصل تھا سو یہ سخن بھی مقام جمع سے سرزد ہوا۔ سرمه چشم آریه، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۷۶، ۲۷۷ حاشیہ ) اے میرے غلامو جنہوں نے اپنے نفسوں پر زیادتی کی ہے کہ تم رحمت الہی سے نا امید مت ہو خدا تعالیٰ سارے گناہ بخش دے گا ۔ اب اس آیت میں بجائے قُلْ يَا عِبَادَ الله کے جس کے یہ معنے ہیں کہ کہہ اے خدا تعالیٰ کے بندو یہ فرمایا کہ قُلْ يَا عِبَادِيَ یعنی کہہ اے میرے غلامو ۔ اس طرز کے اختیار کرنے میں بھید یہی ہے کہ یہ آیت اس لئے نازل ہوئی ہے کہ تا خدا تعالیٰ بے انتہا رحمتوں کی بشارت دیوے اور جو لوگ کثرت گناہوں سے دل شکستہ ہیں ان کو تسکین بخشے سو اللہ جل شانہ نے اس آیت میں چاہا کہ اپنی رحمتوں کا ایک نمونہ پیش کرے اور بندہ کو دکھلا دے کہ میں کہاں تک اپنے وفادار بندوں کو انعامات خاصہ سے مشرف کرتا ہوں سو اس نے قُلْ يَا عِبَادِی کے لفظ سے یہ ظاہر کیا کہ دیکھو یہ میرا پیارا رسول دیکھو یہ برگزیدہ بندہ کہ کمال طاعت سے کس درجہ تک پہنچا کہ اب جو کچھ میرا ہے وہ اس کا ہے۔ جو شخص نجات چاہتا ہے وہ اس کا غلام ہو جائے یعنی ایسا اس کی طاعت میں محو ہو جاوے کہ گویا اس کا غلام ہے تب وہ گو کیسا ہی پہلے گناہ گار تھا