تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 60

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٦٠ سورة الزمر فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ یعنی جس نفس پر موت کا حکم دے دیتا ہے اُس کو واپس آنے نہیں دیتا الحکم جلد ۴ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۶ رجولائی ۱۹۰۰ء صفحه ۲) یہ مسئلہ ہی غلط ہے جو کہے کہ فلاں شخص زندہ کرتا ہے ۔ اگر زندہ کرنے کا مفہوم اور مطلب اور نہ ہوتا تو خدا تعالیٰ کیوں فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ فرماتا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ محاورہ ہی اور ہے ورنہ اس سے تو تناقض لازم آتا ہے کہ ایک طرف کہے کہ زندہ نہیں ہوتا اور دوسری طرف کہہ دے کہ زندہ ہو جاتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۲ ء صفحه ۷،۶ ) ہم خدا تعالیٰ کے اسی قانون قدرت کو مانتے ہیں جو قرآن شریف میں بیان ہوا ہے جو مردہ ایسے ہیں کہ قبر میں رکھے جاتے ہیں اور ان کے پاس ملائکہ آتے ہیں۔ اُن کی نسبت قرآن شریف کا یہی فتویٰ ہے فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ مگر برنگ دیگر غیر حقیقی موت میں احیاء بھی ہوتا ہے چنانچہ اس قسم کے واقعات خود ہمارے ساتھ بھی پیش آئے ہیں چنانچہ مبارک کے متعلق اس قسم کی موتیں فيُمْسِكُ التِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ سے نہیں اور وہ یہ احیاء ہے جس پر ہم ایمان لاتے ہیں کہ مردہ جی اُٹھتا ہے۔ (الحکم جلد ۶ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۲ء صفحه ۲) ہم اس کو خارق عادت نہیں مان سکتے جو قرآن شریف کے بیان کردہ قانونِ قدرت کے خلاف ہو۔ مثلاً ہم احیاء موتی حقیقی کا کیوں انکار کرتے ہیں اس لئے کہ قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا ہے فَيُمْسِكُ التِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ - الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۶ ) ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ اعجازی طور پر بھی احیاء موتی نہیں ہوتا بلکہ یہ عقیدہ ہے کہ وہ شخص دوبارہ دنیا کی طرف رجوع نہیں کرتا۔ مبارک احمد کی حیات اعجازی ہے۔ اس میں کوئی بحث نہیں کہ جس شخص کی باقاعدہ طور پر فرشتہ جان قبض کرلے اور زمین میں بھی دفن کیا جاوے وہ پھر کبھی زندہ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ خدا تعالیٰ نے بھی ۔۔۔۔۔ وو فرما يا فيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ - الحکم جلدے نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۲) کیا یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن شریف نے صاف طور پر فرمادیا ہے کہ حقیقی مردے واپس نہیں آتے فيسك الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ کے کیا معنے ہیں ۔ پھر اگر میں نے یہ کہا کہ وہ مردے جو حضرت مسیح نے زندہ کئے وہ حقیقی مردے نہ تھے جو آیت فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ کے موافق واپس نہیں آتے تو کیا برا کیا ؟ اس سے معجزات کا انکار کیوں کر ثابت ہوا۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۰۵ء صفحه ۹) ہم قطعی طور سے انکار کرتے ہیں کہ کوئی حقیقی مردے بھی زندہ کر سکتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے