تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 35
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ سورة ص بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة ص بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِّنْهُمْ وَقَالَ الْكَفِرُونَ هُذَا سْحِرُ كَذَّابٌ ۔ انہوں نے اس بات سے تعجب کیا کہ انہیں میں سے ایک شخص ان کی طرف بھیجا گیا اور بے ایمانوں نے کہا کہ یہ تو جادوگر کذاب ہے۔ ایک عیسائی کے تین سوال اور اُن کے جوابات ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۳۲) وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَى الهَتِكُمْ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٍ يُرَادُ کہتے ہیں کہ یہ ایک منصوبہ ہے جو روپیہ جمع کرنے کے لئے بنایا گیا ہے اور اس کے معاون تنخواہیں پاتے ہیں ۔ اب وہ شخص جو دل میں کچھ خدا تعالیٰ کا خوف رکھتا ہے سوچ لے کہ کیا یہ وہی بدظنی نہیں جو قدیم سے دلوں کے اندھے انبیاء علیہم السلام پر کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے حضرت موسیٰ پر بھی بدظنی کی اور اپنے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اس شخص کا اصل مطلب یہ ہے کہ تم لوگوں کو زمین سے بیدخل کر کے خود قابض ہو جائے ایسا ہی یہودیوں نے حضرت عیسی کی نسبت یہی رائے قائم کی کہ یہ شخص مگار ہے اور نبوت کے بہانہ سے: ہم لوگوں پر حکومت کرنا چاہتا ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کفار قریش نے بھی یہی بدظنی کی و جیسا کہ قرآن شریف میں ان کا مقولہ یہ لکھا ہے إِنَّ هَذَا لَشَيْء مراد یعنی اس دعوے میں تو کوئی نفسانی مطلب