تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 24
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴ سورة الصفت أَنَّ دَوَامَ الْحَيَاةِ وَعَدَمَ الْمَوْتِ مَعَ نَعِيمٍ فرمایا ہے کہ نعمتوں اور خوشیوں کے ساتھ بلاموت ہمیشہ کی وَسُرُورٍ وَحُبُورٍ مِنَ التَّفَضَّلَاتِ الْعَظِيمَةِ زندگی اللہ تعالیٰ کے بڑے فضلوں ے فضلوں میں سے ہے، اور جب فَإِذَا تَقَرَّرَ هُذَا فَكَيْفَ يُتَصَوَّرُ وَيُظَنُّ أَنَّ یہ بات ثابت ہوگئی تو پھر یہ تصور کیسے کیا جاسکتا ہے کہ نَبِيًّا كَمِثْلِ عِيسَى مَعَ كَوْنِهِ مِنَ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسا ایک نبی مقرب الہی ہونے الْمُقَرَّبِينَ مَحْرُومٌ مِنْ هَذَا التَّفَضُّلِ کے باوجود اس فضل عظیم سے محروم ہو۔ اور یہ ت یہ تصور کیسے الْعَظِيمِ وَكَيْفَ يُتَصَوَّرُ أَنَّ اللهَ يُخْلِفُ کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خلاف وعدہ کرے اور اُسے وَعْدَةً وَيَرُدُّهُ إِلَى الدُّنْيَا وَالامِهَا وَآفَاتِهَا دُنیا کی طرف اور اس کے دُکھوں ، آفتوں، مصیبتوں اور وَمَصَائِبِهَا وَشَدَائِدِهَا وَمَرَارَاتِهَا، ثُمَّ تلخیوں کی طرف کو ٹا دے پھر اسے دوسری دفعہ موت يميتُهُ مَرَّةً ثَانِيَّةً، سُبْحَانَهُ هُذَا بُهتان دے۔ یہ بہت بڑا بہتان ہے اور اللہ کی ذات اس سے عَظِيمٌ وَمَا كَانَ لِأَحَدٍ أَنْ يَعُودَ لِمِثْلِهِ پاک ہے ۔ اور کسی مومن کے لئے یہ جائز نہیں کہ اپنی بَعْدَمَا اطَّلَعَ عَلَى خَطَائِهِ إِنْ كَانَ مِنَ غلطی پر اطلاع پانے کے بعد دوبارہ اس کا اعادہ الْمُؤْمِنِينَ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ وَقَدِ اسْتَدَلَّ بِهَا الْخَلِيفَةُ الأَوَّلُ أَبو حضرت خلیفہ اول ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس بَكْرِ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا تُوَفَّى آیت سے اُس وقت استدلال کیا جب رسول کریم صلی رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور صحابہؓ نے آپ کی وفات وَاخْتَلَفَ النَّاسُ فِي وَفَاتِهِ، وَقَالَ عُمَرُ مَا کے بارہ میں اختلاف کیا۔ اور حضرت عمرؓ نے تو یہاں مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تک کہہ دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حقیقی موت بِمَوْتٍ حَقِيقِي بَلْ يَأْتِي مَرَّةً ثَانِيَّةً فِي الدُّنْيَا وارد نہیں ہوئی بلکہ آپ دوبارہ دُنیا میں تشریف لائیں وَيَقْطَعُ أُنْوْفَ الْمُنَافِقِينَ وَأَيْدِيَهُمْ گے اور منافقوں کے ناک، ہاتھ اور کان کاٹیں گے۔ وَاذَانَهُمْ، فَأَنْكَرَهُ الصَّدِّيقُ وَمَنَعَهُ مِنْ حضرت ابوبکر نے اس بات سے انکار کیا اور ان کو ایسا ذلِكَ، ثُمَّ بَادَرَ إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ الله کہنے سے منع کیا۔ پھر آپ جلدی سے حضرت عائشہ رضی عَنْهَا وَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ الله عنہا کے گھر گئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وَسَلَّمَ، وَكَانَ مَيْتًا عَلَى الْفِرَاشِ، فَنَزَعَ نعش مبارک بستر پر تھی ، انہوں نے آنحضرت کے چہرہ