تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 23

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳ سورة الصفت مَعْنَى التَّعَرُّبِ، وَالْفَاءُ هُهُنَا لِلْعَطْفِ استفهام تقریری کے لئے ہے اور اس میں تعجب کے معنے عَلَى مَحْذُوفٍ أَي أَنَحْنُ مُخَلَّدُونَ پائے جاتے ہیں اور فاء یہاں ایک محذوف پر عطف کے مُنْعَمُونَ مَعَ قِلَّةِ أَعْمَالِنَا وَمَا نَحْنُ لئے استعمال ہوا ہے اور اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ کیا ہم اپنے بِمَيِّتِيْنَ وَاعْلَمْ أَنَّ هَذَا سُؤَالٌ مِنْ تھوڑے سے اعمال کے باوجود جنت کی نعمتوں میں ہمیشہ أَهْلِ الْجَنَّةِ حِينَ يَسْمَعُونَ قَوْلَ الله رہیں گے اور ہمیں موت نہیں آئے گی اور تجھے یہ بھی ذہن میں تَعَالَى كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا كُنتُم رکھنا چاہیے کہ یہ اہل جنت کا اس وقت کا سوال ہے جب تَعْمَلُونَ ، كَمَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول سنیں گے كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا فِي تَفْسِيرِ قَوْلِهِ تَعَالَى هَنِيئًا، فَعِنْدَ كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ یعنی تم دل کو لبھانے والے میوے کھاؤ اور ذُلِكَ يَقُولُونَ أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ اِلَّا اچھا پانی پیو یہ تمہارے عملوں کی جزا ہے جیسا کہ حضرت ابن مَوْتَتَنَا الْأُولَى وَاعْلَمْ أَنَّ قَوْلَهُمْ هذا عباس سے اللہ تعالیٰ کے قول هَنِيئًا کی تفسیر میں مروی ہے۔ يَكُونُ عَلَى طَرِيقَةِ الْابْتِهَاجِ پس اس موقع پر جنتی کہیں گے أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ إِلَّا وَالشَّرُورِ ثُمَّ اعْلَمُ أَنَّ الْإِسْتِثْنَاءَ مَوْتَتَنَا الأولى - اور جان لے ان کا یہ قول خوشی اور سرور کے هُهُنَا مُفَرَّغْ وَقِيلَ مُنْقَطِعُ بمَعْنِی طور پر ہوگا ۔ پھر تمہیں یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ یہاں لكِنْ وَفِي كُلِّ حَالٍ يَثْبُتُ مِنْ هَذِهِ استثناء مفرغ ہے اور بعض کے نزدیک استثناء منقطع بمعنی الْآيَةِ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يُبَشِّرُونَ لكن ہے اور دونوں صورتوں میں اس آیت سے یہ ثابت ہوتا بِالدَّوَامِ وَالْخُلْدِ وَيُبَشِّرُونَ بِأَنَّ لَهُمْ ہے کہ اہلِ جنت جنت میں ہمیشہ رہنے کی بشارت پائیں گے لَا مَوْتَ إِلَّا مَوْتَتَهُمُ الْأُولَى وَهَذَا اور یہ کہ ان پر سوائے پہلی موت کے اور موت واقع نہیں دَلِيلٌ صَرِيحٌ عَلَى أَنَّ اللهَ مَا جَعَلَ لِأَهْلِ ہوگی ۔ یہ اس بات پر صریح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت الْجَنَّةِ مَوْتَيْنِ، بَلْ بَشَرَهُمْ بِالْحَيَاةِ کے لئے دو موتیں نہیں بنائیں بلکہ اس نے انہیں اس موت الْأَبَدِيَّةِ بَعْدَ الْمَوْتِ الَّذِی قَدْ قُدّد کے بعد جو ہر شخص کے لئے مقدر ہے ابدی حیات کی بشارت لِكَلِّ رَجُلٍ وَقَالَ فِي آخِرِ هَذِهِ الْآيَةِ دی ہے ۔ پھر اس آیت کے آخر میں فرمایا إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَوْزُ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ، فَأَشَارَ إِلَى الْعَظِيمُ ۔ اس حصہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ ل الطور : ٢٠