تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 430
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدله ۔ سورة الجمعة نَبِيَّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا بُعِثَ فِي کی بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار کے آخر الْأَلْفِ الْخَامِسِ كَذَالِكَ بُعِثَ فِي آخِرِ الْأَلْفِ میں مبعوث ہوئے۔اور یہ قرآن سے ثابت ہے السَّادِس بِالْخَاذِهِ بُرُوزَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ اِس میں انکار کی گنجائش نہیں اور بجز اندھوں کے وَذَالِكَ ثَابِتٌ بِنَضِ الْقُرْآنِ فَلَا سَبِيلَ إِلَى کوئی اس معنی سے سر نہیں پھیرتا ۔ کیا وَآخَرِينَ الْجُحُودِ، وَلَا يُنْكِرُهُ إِلَّا الَّذِي كَانَ مِنَ مِنْهُمْ کی آیت میں فکر نہیں کرتے ۔ اور کس طرح الْعَمِينَ۔ أَلا تُفَكَّرُونَ فِي آيَةٍ وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ مِنْهُمْ کے لفظ کا مفہوم متحقق ہو اگر رسول کریم ، وَكَيْفَ يَتَحَقَّقُ مَفْهُومُ لَفْظ مِنْهُمْ مِنْ آخرین میں موجود نہ ہوں جیسا کہ پہلوں میں غَيْرِ أَن يَكُونَ الرَّسُولُ مَوْجُودًا فِي الْآخِرِينَ موجود تھے پس جو کچھ ہم نے ذکر کیا اُس کی تسلیم كَمَا كَانَ فِي الْأَوَّلِينَ فَلَا بُدَّ مِنْ تَسْلِيمِ مَا سے چارہ نہیں اور منکروں کے لئے بھاگنے کا رستہ ذَكَرْنَاهُ وَلَا مَفَرَّ لِلْمُنْكِرِينَ۔ وَ مَنْ أَنْكَرَ مِنْ بند ہے اور جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی أَنَّ بَعْثَ النَّبِي عَلَيْهِ السَّلَامُ يَتَعَلَّقُ بِالْأَلْفِ علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے السَّادِسُ كَتَعَلُّقِهِ بِالْأَلْفِ الْخَامِسِ، فَقَدْ جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی پس اُس أَنْكَرَ الْحَقِّ وَنَضَ الْفُرْقَانِ، وَصَارَ مِن نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا۔ بلکہ حق یہ ہے الظَّالِمِينَ۔ بَلِ الْحَقِّ أَنَّ رُوْحَانِيَّتَهُ عَلَيْهِ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت چھٹے السَّلَامُ كَانَ فِي آخِرِ الْأَلْفِ السَّادِسِ أَعْنِي ہزار کے آخر میں یعنی اِن دنوں میں بہ نسبت اُن فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ أَشَدَّ وَأَقْوَى وَأَكْمَلَ مِنْ تِلْكَ سالوں کے اقوئی اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ الْأَعْوَامِ ، بَلْ كَالْبَدْرِ الثَّامِ۔ (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۲۶۸ تا ۲۷۲) چودہویں رات کے چاند کی طرح ہے ۔ ( ترجمہ اصل کتاب سے ) اعْلَمُوا أَنَّ الْخَتْمِيَّةَ أُعْطِيَتُ مِنَ الْأَزَلِ جان لو کہ ختمیت ازل سے محمد رسول اللہ لمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أُعْطِيَتْ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی گئی ہے پھر وہ اس شخص کو عطا لِمَنْ عَلَّمَهُ رُوحُهُ وَجَعَلَهُ ظِلَّهُ، فَتَبَارَكَ مَنْ کی گئی ہے جس کو آپ کی روح نے تعلیم دی اور اسے عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ۔ فَإِنَّ الْخَتَمِيَّةَ الْحَقِيقِيَّةَ كَانَتْ آپ کا ظل بنایا۔ پس مبارک ہے وہ جس نے سکھایا مُقَدَّرَةً فِي الْأَلْفِ السَّادِسِ الَّذِي هُوَ يَوْم اور وہ بھی جس نے سیکھا۔ پس یقینا ختمیت حقیقی چھٹے