تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 385
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۳۸۵ سورة الحشر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الحشر بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَ لِلرَّسُولِ وَ لِذِي الْقُرْبَى وَ الْيَثْنى وَ الْمَسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَى لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ وَمَا الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ مَا الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا یعنی رسول جو کچھ تمہیں علم و معرفت عطا کرے وہ لے لو اور جس سے منع کرے وہ چھوڑ دو۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۶) ما الكم الرسول کا حکم بغیر کسی قید اور شرط کے نہیں۔ اول یہ تو دیکھ لینا چاہئے کہ کوئی حدیث فی الواقع ما الکم میں داخل ہے یا نہیں ۔ ما الکم میں تو وہ داخل ہوگا جس کو ہم شناخت کرلیں کہ در حقیقت رسول نے اس کو دیا ہے اور جب تک پورے طور پر اطمینان نہ ہو تو کیا یہ جائز ہے کہ حدیث ہے کہ حدیث کا نام سننے سے ما الكم میں اس کو داخل کر دیں ۔ الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۰۷) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ