تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 370

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تَبْرَاهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللهِ يَسِيرُ ٣٧٠ سورة الحديد کوئی حادثہ نہ زمین پر نازل ہوتا ہے اور نہ تمہاری جانوں پر مگر وہ سب لکھا ہوا ہے یعنی مقدر ہے۔ ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۳۱) لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَبَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَ أَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ زیزه یعنی ہم نے لوہا اتارا۔۔۔۔ اُترنے کا لفظ آسمان سے اُترنے پر ہرگز دلالت نہیں کرتا اور اُترنے کے ساتھ آسمان کا لفظ زیادہ کر لینا ایسا ہے جیسا کسی بھوکے سے پوچھا جائے کہ دو تو دو کتنے ہوتے ہیں تو وہ جواب دے کہ چار روٹیاں ۔ ہم نے لوہا اتارا۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۴۵ حاشیه ) الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۵) فَانظُرُوا إِلَى الْقُرْآنِ الْكَرِيمِ كَيْفَ تم قرآن مجید کو دیکھو کہ وہ اپنی بلندشان آیات يُبَيِّنُ مَعْنَى النُّزُولِ فِي آيَاتِهِ الْعُظمیٰ میں لفظ نزول کے معنے کیسے بیان کرتا ہے۔ اور تم وَتَدَبَّرُوا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى وَ أَنْزَلْنَا الْحَدِيد ۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے قول و أَنْزَلْنَا الْحَدِيد پر بھی غور کرو ۔۔۔۔ وَ انْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ لَا تَنْزِلُ اور تم اچھی طرح جانتے ہو کہ لوہا اور باقی ایسی ہی اشیاء مِنَ السَّمَاءِ بَلْ تَحْدُثُ وَ تَتَوَلَّدُ فِي الْأَرْضِ وَ آسمان سے نہیں اُترتیں بلکہ زمین میں پیدا ہوتی ہیں ۔ فِي طَبْقَاتِ الثَّرَى وَإِنْ أَمْعَنْتُمُ النَّظْرَ فِي اور اگر تم خدا تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید میں غور کرو تو تم كِتَابِ اللهِ تَعَالَى فَيَكْشِفُ عَلَيْكُمْ أَنَّ پر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ نزول مسیح کی حقیقت بھی حَقِيقَةً نُزُولِ الْمَسِيحِ مِنْ هَذِهِ الْأَقْسَامِ اسی قسم کی ہے۔ (ترجمہ از مرتب ) ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۴۱) - اَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ وَمَعْلُومٌ أَنَّ الْحَدِيدَ لَا اَنْزَلْنَا الْحَدِید یہ بات سب جانتے ہیں کہ لوہا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ بَلْ يَتَكَوَّنُ فِي الْمَعَادِنِ آسمان سے نہیں اُتر تا بلکہ زمین میں رب السماوات بِحُكْمِ رَبِّ السَّمَاوَاتِ، وَلَوِ اجْتَمَعَ کے حکم سے پیدا ہوتا ہے اور اگر سارے زمین والے ۔۔۔۔۔۔۔ •