تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 369 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 369

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۹ سورة الحديد اس نے ارادہ کیا ہے اور اس کے لیے کئی راہیں اختیار کی گئی ہیں۔ ایک طرف مامور کو بھیج دیا ہے جو نرم الفاظ میں دعوت کرے اور لوگوں کو ہدایت کرے۔ دوسری طرف علوم وفنون کی ترقی ہے اور عقل آتی جاتی ہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه ۹) انسان کو زمین سے بھی تشبیہ دی گئی ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ذکر ہے کہ اِعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا۔ ارض کے زندہ کرنے سے مراد اہل زمین ہیں ۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۷ ۱ مورخہ ۶ مارچ ۱۹۰۸ ء صفحہ ۸ ) إِنَّ الْمُصَّدِقِينَ وَالْمُصَّدِقتِ وَ اَقْرَضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضْعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ ۔ قرآن کریم میں یہ سنت اللہ ہے کہ بعض الفاظ اپنی اصلی حقیقت سے پھر کر مستعمل ہوتے ہیں جیسا کہ فرماتا ہے وَ اَقْرَضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا یعنی قرض دو اللہ کو قرض اچھا ۔ اب ظاہر ہے کہ قرض کی اصل تعریف کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ انسان حاجت اور لاچاری کے وقت دوسرے سے بوقت دیگر ادا کرنے کے عہد پر کچھ مانگتا ہے لیکن اللہ جل شانہ حاجت سے پاک ہے پس اس جگہ قرض کے مفہوم میں سے صرف ایک چیز مراد لی گئی یعنی اس طور سے لینا کہ پھر دوسرے وقت اس کو واپس دے دینا اپنے ذمہ واجب کا ٹھہرا لیا ہو۔ ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۵۵،۱۵۴) وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَ رُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُوْنَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ ط لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَ نُورُهُمْ وَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَ كَذَّبُوا بِأَيْتِنَا أُولَئِكَ أَصْحُبُ الْجَحِيمِ جو لوگ خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے وہی ہیں کہ جو خدا کے نزدیک صدیق ہیں۔ ان کے لئے اجر ہوگا ان کے لئے نور ہوگا۔ ( براہین احمد یہ چہار تخصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۶۴ حاشیہ نمبر ۱۱) مَا أَصَابَ مِنْ مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَبٍ مِّنْ قَبْلِ أَنْ