تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 352
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۲ سورة الواقعة افراد کاملہ جو درمیانی زمانہ میں ہیں جو فیج اعوج کے نام سے موسوم ہے جو بوجہ اپنی کمی مقدار اور کثرت اشرار و فجار و هجوم افواج بد مذاهب و بد عقائد و بد اعمال شاذ و نادر کے حکم میں سمجھے گئے گو دوسرے فرقوں کی نسبت درمیانی زمانہ کے صلحاء امت محمد یہ بھی باوجود طوفانِ بدعات کے ایک دریائے عظیم کی طرح ہیں ۔ (تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۲۵، ۲۲۶) ابرار اخیار کے بڑے گروہ جن کے ساتھ بد مذاہب کی آمیزش نہیں وہ دو ہی ہیں ایک پہلوں کی جماعت یعنی صحابہ کی جماعت جو زیر تربیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے دوسری پچھلوں کی جماعت جو بوجہ تربیت روحانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جیسا کہ آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ سے سمجھا جاتا ہے صحابہ کے رنگ میں ہیں۔ یہی دو جماعتیں اسلام میں حقیقی طور پر منعم علیہم ہیں اور خدا تعالیٰ کا انعام اُن پر یہ ہے کہ اُن کو انواع اقسام کی غلطیوں اور بدعات سے نجات دی ہے اور ہر ایک قسم کے شرک سے ان کو پاک کیا ہے اور خالص اور روشن تو حید ان کو عطا فرمائی ہے۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۲۷، ۲۲۸) انْظُرُ فِي الْبُخَارِيِّ وَغَيْرِهِ مِنَ دیکھو بخاری اور دوسری صحاح میں کس طرح ہمارے الصِّحَاحِ كَيْفَ بَشَّرَ نَبِيُّنَا وَرَسُولُنَا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بشارت دیتے ہوئے فرمایا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّهُ سَيَكُونُ ہے کہ آپ کی امت میں بعض ایسے لوگ بھی ہوں گے جن فِي أُمَّتِهِ قَوْمٌ يُكَلِّمُونَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونُوا سے اللہ تعالیٰ کلام کرے گا اور وہ نبی نہیں ہوں گے ان کا أَنْبِيَاءَ وَيُسَمَّوْنَ مُحَدِّثِينَ وَقَالَ اللهُ جَلَّ نام محدث رکھا جائے گا۔ اور اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے شَأْنُهُ ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِنَ الْآخِرِينَ ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِنَ الْآخِرِينَ ( ترجمه از مرتب ) و ( تحفة بغداد، روحانی خزائن جلدے صفحہ (۱۵) و سو ثُمَّ بَشَرَ لَنَا وَقَالَ ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بشارت دیتے ہوئے فرہ ہوئے فرمایا ہے ثلة وَثُلَةٌ مِنَ الْآخِرِينَ وَفِي هَذِهِ الْآيَةِ أَشَارَ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِنَ الْآخِرِينَ اور اس آیت میں یہ إِلَى أَنَّ هَذِهِ الأُمَّةَ تُكَلِّمُ كَمَا كُلِمَتِ اشارہ ہے کہ اس امت سے بھی اللہ تعالی اس طرح کلام کرے گا الأُمَمُ مِنْ قَبْلُ۔ ( تحفة بغداد ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۲ حاشیہ ) جس طرح وہ پہلی امتوں سے کلام کرتا رہا ہے۔ (ترجمہ از مرتب ) فَلَا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ وَ إِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ ﴿ إِنَّهُ لَقُرْآنٌ