تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 351

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۱ سورة الواقعة الدَّاخِرَةِ وَكَذَالِكَ قَالَ فِي مَقَامٍ آخر جائے گا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جو سب سے سچا ہے وَهُوَ أَصْدَقُ الْقَائِلِينَ ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ ایک اور مقام میں فرما یا ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِنَ ثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ فَقَسَمَ زَمَانَ الْهَدَايَةِ الْآخِرِينَ پس اس نے ہدایت ، مدد اور نصرت کے زمانہ کو وَالْعَوْنِ وَالنُّصْرَةِ إِلى زَمَانِ نَبِيِّنَا صَلَّی دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک زمانہ تو نبی اکرم صلی اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلى الزَّمَانِ الْآخَرِ علیہ وسلم کا ہے اور ایک زمانہ اس امت کے مسیح کا ہے۔ ا الَّذِي هُوَ زَمَانُ مَسِيحِ هَذِهِ الْمِلَّةِ اسی طرح اس نے یہ بھی فرمایا وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا وَكَذَالِكَ قَالَ وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا يَلْحَقُوا بِهِمُ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود اور بِهِمْ فَأَشَارَ إِلَى الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ آپ کی جماعت کی طرف اشارہ کیا اور نیز ان لوگوں کی وَجَمَاعَتِهِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ فَثَبَتَ طرف جو ان کی پیروی کریں گے۔ پس قرآن مجید کے بِنُصُوصٍ بَيِّنَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَنَّ هَذِهِ واضح نصوص سے ثابت ہوا کہ یہ مذکورہ چار صفات الصَّفَاتِ قَدْ ظَهَرَتْ فِي زَمَنِ نَبِيِّنَا ثُمَّ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ظاہر ہوئیں تَظْهَرُ فِي أَخَرِ الزَّمَانِ پھر آخری زمانہ میں بھی ظاہر ہوں گی ۔ (ترجمہ از مرتب ) اعجاز المسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۵۳، ۱۵۴) اگر چہ زمانہ فیج اعوج میں بھی جماعت کثیر گمراہوں کے مقابل نیک اور اہل اللہ اور ہر صدی کے سر پر مجد د بھی ہوتے رہے ہیں لیکن حسب منطوق آیت قُلَةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَ قُلَةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ خالص محمدی گروہ جو ہر ایک پلید ملونی اور آمیزش سے پاک اور تو بہ نصوح سے غسل دیئے ہوئے ایمان اور دقائق عرفان اور علم اور عمل اور تقویٰ کے لحاظ سے ایک کثیر التعداد جماعت ہے یہ اسلام میں صرف دو گروہ ہیں یعنی گروه اولین و گروه آخرین جو صحابہ اور مسیح موعود کی جماعت سے مراد ہے اور چونکہ حکم کثرت مقدار اور کمال صفائی انوار پر ہوتا ہے اس لئے اس سورۃ میں اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے فقرہ سے مراد یہی دونوں گروہ ہیں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنی جماعت کے اور مسیح موعود مع اپنی جماعت کے۔ خلاصہ کلام یہ کہ خدا نے ابتدا سے اس اُمت میں دو گروہ ہی تجویز فرمائے ہیں اور انہی کی طرف سورہ فاتحہ کے فقرہ انْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں اشارہ ہے (۱) ایک اولین جو جماعتِ نبوی ہے (۲) دوسرے آخرین جو جماعت مسیح موعود ہے اور ل الجمعة : ٤