تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 336

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۶ سورة الرحمن الْحَنَّانِ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ فَانْظُرْ یعنی خدائے بزرگ اور مہربان کا یہ قول کہ الشَّمْسُ إلى مَا قَالَ الرَّحْمَانُ وَفَكِرُ كَذِي الْعَقْلِ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَان پس اس مضمون کو سوچ جو خدا تعالیٰ وَالْإِمْعَانِ وَتَذَكَّرُ كَالْمُسْتَرْ شِدِينَ فَإِنَّ نے فرمایا اور عقلمندوں اور سوچنے والوں کی طرح غور کر هَذِهِ الْآيَةَ تُؤَيِّدُ ايَةً أولى وَيُفَسِرُ مَعْنَاهَا اور رشد کے طالبوں کی طرح یاد کر کیونکہ یہ آیت پہلی بِتَفْسِيرِ اجْلى كَمَا لَا يَخْفَى عَلَی آیت کی تائید کرتی ہے اور ایک کھلی کھلی تفسیر کے ساتھ الْمُفَكِّرِينَ وَ بَيَانُهُ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اس کے معنی بیان کرتی ہے جیسا کہ سوچنے والوں پر يَجْرِيَانِ مَتَعَاقِبَيْنِ وَيَحْمِلَانِ نُورًا وَاحِدًا پوشیدہ نہیں اور بیان اس کا یہ ہے کہ آفتاب اور چاند فِي اللَّوْنَيْنِ وَكَذَلِكَ الْعَرَبِيَّةُ وَالْقُرْآنُ ایک دوسرے کے متعاقب چلتے ہیں اور ایک ہی نور کو دو فَإِنَّهُمَا تَعَاقَبَا وَاتَّحَدًا الْبُرُوقَ وَاللَّمْعَانَ رنگوں میں اٹھائے پھرتے ہیں۔ اور یہی مثال عربی اور أَمَّا الْقُرْآنُ فَهُوَ كَالشَّارِقِ الْمُنِيرِ قرآن کی ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے بعد چل رہے وَالْعَرَبِيَّةُ كَالْبَدْرِ الْمُسْتَنِيرِ وَمَعْذَلِكَ ہیں اور روشنی اور چمک میں اتحاد رکھتے ہیں سو قر آن تو تَرَى الْعَرَبِيَّةَ أَسْرَعُ فِي الْمَسِيرِ وَاجْری مهر تاباں کی طرح ہے اور عربی ماہتاب کی طرح اور عَلَى لِسَانِ الصَّالِحِ وَالشَّرِيرِ وَ مَا كَانَتْ با وصف اس کے عربی سیر میں تیز رو ہے اور نیک اور بد کی شَمْسُ الْقُرْآنِ أَنْ تُدْرِكَ هَذَا الْقَمَرَ زبان پر زیادہ جاری ہوگئی ہے اور قرآن کا آفتاب اس وَكَذَلِكَ قَدَّرَ اللهُ هَذَا الْأَمْرَ وَانَّهُمَا کی حرکت کو نہیں پہنچا اور خدا تعالیٰ نے اس امر کو اسی بِحُسْبَانٍ وَيَجْرِيَانِ كَمَا أَجْرِيَا وَلَا يَبْغِيَانَ طرح مقدر کیا اور وہ دونوں ایک حساب پر چل رہے بِحِسَابِ مُقَدَّرٍ مِنَ الرَّحْمٰنِ فَتَرَى آن ہیں اور جیسا کہ چلا یا گیا ویسا ہی چل رہے ہیں اور اپنے الْقُرْآنَ يَجْرِى بِرِعَايَةِ أَنْوَاعِ الْإِسْتِعْدَادِ اپنے اندازہ سے کم و بیش نہیں ہوتے۔ سو قرآن تو وَ يَكْشِفُ عَلَى الطَّالِبِ أَسْرَارَ الْمَعَادِ استعدادوں کے لحاظ پر چلتا ہے اور طالب پر معاد کے وَيُرَبِّي الْحُكَمَاءَ كَمَا يُرَبِّي السُّفَهَاء وَيُعَلِّمُ بھید کھولتا ہے اور حکیموں کی پرورش ایسا کرتا ہے جیسا کہ الْعُقَلَاء كَمَا يُعَلِّمُ الْجُهَلَاء وَفِيهِ بَلاغ بے وقوفوں کی پرورش کرتا ہے اور عقلمندوں کو اسی طرح لِكُلِّ مَرْتَبَةِ الْفَهْمِ وَتَسْلِيَةٌ لِكُلِّ أَرْبَابِ سکھلاتا ہے جیسا کہ جاہلوں کو اور اس میں ہر یک سمجھ النَّهَاءِ وَالْوَهْمِ وَسَاوَی جَمِيعَ انْوَاعِ کے مرتبہ کے لئے طریق تبلیغ موجود ہے اور ہر یک