تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 335 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 335

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۵ سورة الرحمن وو هَذِهِ الْإِشَارَةِ قَدَّمَ اللهُ آيَةَ عَلَّمَ کریں پس اسی اشارت کی غرض سے خدا تعالیٰ نے آیت الْقُرْآنَ ثُمَّ قَفَاهُ آيَةَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ كَأَنَّهُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ کو مقدم کیا پھر بعد اس کے آیت عَلَّمَهُ قَالَ الْمِنَّةُ مِئَتَانِ تَنْزِيلُ الْقُرْآنِ الْبَيَانَ کو لایا پس گویا کہ اس نے یہ کہا کہ احسان دو وَتَخْصِيصُ الْعَرَبِيَّةِ بِأَحْسَنِ الْبَيَانِ احسان ہیں (۱) قرآن کا اتارنا اور عربی کو بلاغت فصاحت وَتَعْلِيمِهَا لِأَدَمَ لِيَنْتَفِعَ بِهِ نَوْعُ کے ساتھ مخصوص کرنا اور (۲) آدم کو عربی کی تعلیم دینا تا الْإِنْسَانِ فَإِنَّهَا مَخْزَنُ عُلُوْمٍ عَالِيَةٍ نوع انسان اس سے منتفع ہو کیونکہ عربی علوم عالیہ کی مخزن وَهِدَايَاتٍ أَبَدِيَّةٍ مِنَ الْمَنَّانِ كَمَا لَا يَخْفی ہے اور اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ابدی ہدایتیں ہیں عَلَى الْمُتَدَبِرِينَ جیسا کہ تدبر کرنے والوں پر پوشیدہ نہیں۔ فَالْحَاصِلُ أَنَّهُ ذَكَرَ أَوْلا نِعْمَةَ پس حاصل کلام یہ ہے کہ اول خدا تعالیٰ نے فرقان کی الْفُرْقَانِ ثُمَّ ذَكَرَ نِعْمَةً أُخْرَى الَّتِي هِيَ نعمت کو ذکر کیا ہے پھر اس دوسری نعمت کو ذکر کیا جو اس کے لَهَا كَالْبُنْيَانِ وَأَشَارَ إِلَيْهَا بِلَفْظِ لئے بنیاد کی طرح ہے اور اس بات کی طرف بیان کے لفظ الْبَيَانِ لِيُعْلَمَ أَنَّهَا هُوَ الْعَرَبِيُّ الْمُبِينُ کے ساتھ اشارہ کیا تا معلوم ہو کہ اس صفت سے موصوف فَإِنَّ الْقُرْآنَ مَا جَعَلَ الْبَيَانَ صِفَةَ أَحَدٍ عربی زبان ہے کیونکہ قرآن نے بیان کے لفظ کو بجز عربی مِنَ الْأَلْسِنَةِ مِنْ دُونِ هَذِهِ اللَّهُجَةِ فَانی کے کسی زبان کی صفت نہیں ٹھہرایا پس کون سا قرینہ اس قَرِينَةٍ أَقْوَى وَ أَدَلَّ مِنْ هَذِهِ الْقَرِينَةُ لَو قرینہ سے زیادہ قوی اور زیادہ دلالت کرنے والا ہے اگر كُنْتُمْ مُتَفَكِّرِينَ أَلَا تَرَى أَنَّ الْقُرْآنَ تم فکر کرنے والے ہو۔ کیا تو نہیں جانتا کہ قرآن نے غیر سَمَّى غَيْرَ الْعَرَبِيَّةِ أَعْجَمِيًّا فَمِنَ الْغَبَاوَةِ أَنْ زبانوں کا نام انجھی رکھا ہے پس نادانی ہوگی کہ ان زبانوں تَجْعَلَهَا لِلْعَرَبِيَّةِ سَمِيًّا فَافَهَمْ إِنْ كُنْتَ کو عربی کا ہم نام اور ہم رتبہ ٹھہرایا جائے پس اگر تو ز کی زَكِيًّا وَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُعْرِضِينَ وَالنَّصُّ ہے تو سمجھ لے اور کنارہ کرنے والوں سے مت ہو اور صَرِيحٌ وَمَا يُنْكِرُهُ إِلَّا وَقِيحُ مِن یہ نص صریح ہے اور کوئی اس سے انکار نہیں کرے گا مگر الْمُعَانِدِينَ ய بے حیا جو معاندوں میں سے ہوگا۔ وَ مِنْهَا مَا قَالَ ذُو الْمَجْدِ وَالْعِزَّةِ فِي اور ان آیتوں میں سے ایک وہ آیت ہے جو خدائے آيَةٍ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ اعْنِي قَوْلَ اللهِ ذو المجد والعزت نے بعد اس آیت کے ذکر فرمائی ہے