تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 303

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۳ سورة النجم دنا فتدلی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اوپر کی طرف ہو کر نوع انسان کی طرف جھکا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال اعلیٰ درجہ کا کمال ہے جس کی نظیر نہیں مل سکتی اور اس کمال میں آپ کے دو درجہ بیان فرمائے ہیں ۔ ایک صعود، دوسرا نزول۔ اللہ تعالیٰ کی طرف تو آپ کا صعود ہوا یعنی خدا تعالیٰ کی محبت اور صدق و وفا میں ایسے کھینچے گئے کہ خود اس ذات اقدس کے دنو کا درجہ آپ کو عطا ہوا۔دنو ۔ اقرب سے ابلغ ہے۔ اس لیے یہاں یہ لفظ اختیار کیا۔ جب اللہ تعالیٰ کے فیوضات اور برکات سے آپ نے حصہ لیا تو پھر بنی نوع پر رحمت کے لیے نزول فرمایا۔ یہ وہی رحمت تھی جس کا اشارہ اللہ تعالیٰ نے مَا أَرْسَلُنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیاء : ۱۰۸) فرمایا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم قاسم کا بھی یہی سر ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے لیتے ہیں جو کچھ لیتے ہیں اور پھر مخلوق کو پہنچاتے ہیں۔ بس مخلوق کو پہنچانے کے واسطے آپ کا نزول ہوا ۔ اس دنا فتداٹی میں اسی صعود اور نزول کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علو مرتبہ کی دلیل ہے۔ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى الحکم جلد ۹ نمبر ۳۲ مورخه ۱۰ استمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۸) انتہائی درجہ (ترقیات کاملہ ) کا وہ ہے جس کی نسبت لکھا ہے مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى انسان زمانه سیر سلوک میں اپنے واقعات کشفیہ میں بہت سے عجائبات دیکھتا ہے اور انواع و اقسام کی واردات اُس پر وارد ہوتی ہیں مگر اعلیٰ مقام اس کا عبودیت ہے جس کا لازمہ صحو اور ہوشیاری سے اور سکر اور شطح سے بکلی بیزاری ہے۔ ) مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۵۱۹ ) حالت تام وہ ہے جس کی طرف اشارہ ہے مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغی یہ حالت اہل جنت کے نصیب ہوگی ۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۵ ء صفحه ۸ ) الكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الأنْثَى تِلْكَ إِذَا قِسْمَةٌ ضِيْزَى (۲۳) عیسائیوں کو جواب دیتے وقت بعض اوقات سخت الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں تو یہ بات بالکل صاف ہے جب ہمارا دل بہت دکھایا جاتا ہے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر طرح طرح کے نا جائز حملے کئے جاتے ہیں تو صرف متنبہ کرنے کی خاطر انہیں کی مسلمہ کتابوں سے الزامی جواب دیئے