تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 283
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۳ سورة النجم قومی میں کام کرتی رہتی ہے اور وہ بغیر روح القدس اور اس کی تاثیر قدسیت کے ایک دم بھی اپنے تئیں ناپا کی سے بچا نہیں سکتا اور انوار دائمی اور استقامت دائمی اور محبت دائمی اور عصمت دائمی اور برکات دائمی کا بھی سبب ہوتا ہے کہ روح القدس ہمیشہ اور ہر وقت اُن کے ساتھ ہوتا ہے پھر امام المعصومین اور امام المتبرکین اور سید المقربین کی نسبت کیوں کر خیال کیا جائے کہ نعوذ باللہ کسی وقت ان تمام برکتوں اور پاکیزگیوں اور روشنیوں سے خالی رہ جاتے تھے افسوس کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ کی نسبت یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ تینتیس برس روح القدس ایک دم کے لئے بھی اُن سے جدا نہیں ہوا مگر اس جگہ اس قرب سے منکر ہیں۔ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۹۱ تا ۹۴ تا حاشیه ) اگر صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ اعتقاد رکھتے کہ کبھی یا مدتوں تک آپ سے روح القدس جدا بھی ہو جاتا تھا تو وہ ہرگز ہر ایک وقت اور ہر یک زمانہ کی احادیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ نہ کرتے ان کی نظر تو اس آیت پڑھی وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحی یوحی اگر صحابہ تمہاری طرح مس شیطان کا اعتقاد رکھتے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سید المعصومین کیوں قرار دیتے خدا تعالیٰ سے ڈرو کیوں افترا پر کمر باندھی ہے ۔۔۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت صحابہ کا بلا شبہ یہ اعتقاد تھا کہ آنجناب کا کوئی فعل اور کوئی قول وحی کی آمیزش سے خالی نہیں گو وہ وحی مجمل ہو یا مفصل خفی ہو یا جلی ۔ بین ہو یا مشتبہ یہاں تک کہ جو کچھ نحضرت صلعم کے خاص معاملات و مکالمات خلوت اور سر میں بیویوں سے تھے یا جس قدر اکل اور شرب اور لباس کے متعلق اور معاشرت کی ضروریات میں روزمرہ کے خانگی امور تھے سب اسی خیال سے احادیث میں داخل کئے گئے کہ وہ تمام کام اور کلام روح القدس کی روشنی سے ہیں چنانچہ ابوداؤد وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے اور امام احمد بچند وسائط عبد اللہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ نے کہا کہ میں جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا تھا لکھ لیتا تھا تا میں اُس کو حفظ کرلوں ۔ پس بعض نے مجھ کو منع کیا کہ ایسا مت کر کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں کبھی غضب سے بھی کلام کرتے ہیں تو میں یہ بات سن کر لکھنے سے دستکش ہو گیا۔ اور اس بات کا رسول اللہ صلعم کے پاس ذکر کیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ اُس ذات کی مجھ کو قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جو مجھ سے صادر ہوتا ہے خواہ قول ہو یا فعل وہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اگر یہ کہا جائے کہ اُنہیں احادیث کی کتابوں میں بعض امور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی